انصاف ٹائمس ڈیسک
بیگوسرائے ضلع کے صاحب پور کمال اسمبلی حلقے میں انتخابی صورتحال میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ جے ڈی یو کے ضلع سطح کے سینئر رہنما اور سماجی کارکن جناب محمد عبد اللہ نے جمعرات کو جن سوراج مہم کی جانب سے اپنا نامزدگی کا پرچہ جمع کروایا۔
نامزدگی سے قبل انہیں جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور نے پارٹی کا نشان (سِمبل) فراہم کیا۔
محمد عبد اللہ طویل عرصے تک ریلوے بورڈ (سون پور منڈل) سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ بہار ریاست اقلیتی کمیشن کے رُکن رہ چکے ہیں اور فی الحال جے ڈی یو کوٹے سے ضلع 20 ستری پروگرام کمیٹی کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلیا لکھمنیا پنچایت-3 کے سابق مُکھیا بھی رہ چکے ہیں اور زمینی سیاست میں ان کی مضبوط پکڑ مانی جاتی ہے۔
نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبد اللہ نے کہا “میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی میں رہ کر پچھڑوں، دلتوں اور اقلیتوں کی آواز بلند کرنے میں گزاری۔ لیکن آج وہی جے ڈی یو بھاجپا جیسی اقلیت مخالف پارٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔ جن سوراج آج حقیقی عوامی طاقت کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس بار صاحب پور کمال کی عوام تبدیلی لائے گی۔”
محمد عبد اللہ کی سیاسی زندگی تقریباً دو دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے پنچایت سطح سے لے کر ریاستی کمیشن تک اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں:
2001: بلیا لکھمنیا پنچایت-3 سے مُکھیا منتخب
2006–2011: پنچایت وارڈ پارسد
2009–2012: بہار ریاست اقلیتی کمیشن کے رُکن
2012–2015: دوبارہ رُکن مقرر
2015–2016: تیسری بار کمیشن میں رُکن مقرر
2016: کمیشنز سے اجتماعی استعفیٰ
2005 سے اب تک: جے ڈی یو کے تنظیمی کاموں میں فعال کردار
موجودہ: ضلع 20 ستری پروگرام کمیٹی کے رکن
جن سوراج سے ٹکٹ ملنے اور نامزدگی جمع ہونے کے بعد صاحب پور کمال اسمبلی حلقے میں انتخابی میدان تین طرفہ ہو گیا ہے۔ مقامی سطح پر عبد اللہ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر ترقی اور سماجی انصاف کی سیاست کرتے ہیں۔
جن سوراج کے کارکنان اور حامیوں میں جوش و خروش کا ماحول ہے۔ نامزدگی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ موجود رہے۔
عبد اللہ نے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا “یہ لڑائی اقتدار کی نہیں، عزت اور انصاف کی ہے۔ اس بار صاحب پور کمال بولے گا — عوام کا جن سوراج۔”