مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے قدیم طلبہ و طالبات نے بہار میں اپنی تنظیم “مانو المنائی فریٹرنٹی–بہار” کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر تنظیم کی ایڈوائزری کونسل کی تشکیل کے بعد پہلی ایگزیکیٹیو کونسل بھی منتخب کرلی گئی ہے۔
تنظیم کی نئی تشکیل شدہ ایگزیکیٹیو کونسل میں سیف الرحمٰن آزاد کو پہلا کنوینر اور سبنواز احمد آزاد کو پہلا صدر چنا گیا ہے۔ تنظیم نے مشترکہ طور پر دو جنرل سکریٹری منتخب کیے ہیں، جن میں ارشد عالم آزاد اور محمد فیضان آزاد شامل ہیں۔
تین نائب صدور کے طور پر رونق پروین آزاد، افتخار عالم آزاد اور محمد عادل آزاد کو منتخب کیا گیا ہے۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تنظیم نے پانچ سکریٹری اور پانچ جوائنٹ سکریٹری بھی مقرر کیے ہیں!سکریٹری محمد علی حسن رضا آزاد، شمس تبریز آزاد، اظہار احمد آزاد، خدام حسین آزاد، رضائے اللہ آزاد جبکہ جوائنٹ سکریٹری ماہم قمر آزاد، فاروق اعظم آزاد، سونی پروین آزاد، عمار اعظم آزاد، عظمت رضا آزاد بنائے گئے
جبکہ مالی امور کی ذمہ داری کے لیے نقیب اکبر آزاد اور جسارت علی آزاد کو خازن (Treasurer) منتخب کیا گیا ہے۔
کنوینر سیف الرحمٰن آزاد اور صدر سبنواز احمد آزاد نے انتخاب کے بعد اپنے پہلے مشترکہ بیان میں کہا “مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملک کے محروم طبقوں اور اردو داں آبادی کے لیے ایک تعلیمی تحریک ہے۔ اس تحریک کو جاری رکھنا اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہم سب المنائی کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک واضح وژن اور منظم منصوبے کے ساتھ بہار کے تمام المنائی کو متحد کر کے تعلیمی بیداری، تنظیمی سرگرمیوں اور سماجی کردار کو مضبوط کریں گے۔”
اسی موقع پر جنرل سکریٹری محمد فیضان آزاد اور ارشد عالم آزاد نے کہا “ملک کے مختلف شعبوں میں آج مانو کے فارغ التحصیل طلبہ نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ‘آزاد برادری’ کے نام سے پھیلے ان تمام طلبہ کے اندر ملک و قوم کے تئیں احساسِ خدمت موجود ہے۔ اب جبکہ تنظیم کی بنیاد رکھ دی گئی ہے تو ہم مانو کے مسائل کے حل، موجودہ طلبہ کی مدد، قدیم طلبہ کو نیٹ ورک سے جوڑنے اور تعلیمی تحریک کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کریں گے۔”
نائب صدور رونق پروین آزاد، افتخار عالم آزاد اور محمد عادل آزاد نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کے نظریات پر زور دیتے ہوئے کہا “آج ملک کو ہم آہنگی، علم، انصاف اور فکری آزادی کی ضرورت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے نظریات اور خدمات اس ملک کی مشترکہ میراث ہیں۔ ہم ان افکار کو روشنی کے چراغ کی طرح ملک، سماج اور تعلیمی حلقوں تک پہنچائیں گے اور قومی ہم آہنگی اور فکری ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔”
ایگزیکیٹیو کونسل کا انتخاب 15 رکنی ایڈوائزری کمیٹی نے وسیع مشاورت، ناموں کے جائزے اور ووٹنگ کے ذریعے کیا۔ اس عمل میں بالخصوص ڈاکٹر مبشر جمال آزاد، محمد نعمت اللہ آزاد، شہاب عالم آزاد، خیر البشر آزاد، ابو حمزہ آزاد، مستفیض شارق آزاد، عاقب نظر آزاد، عمران احمد آزاد اور فیضان اقبال آزاد نے فعال کردار ادا کیا۔
تنظیم آئندہ مرحلے میں ایگزیکیٹیو کونسل میں مزید چھ ارکان شامل کرے گی اور پھر زونل اور ضلعی کمیٹیاں تشکیل دے کر تنظیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔