مانیسر میں مزدوروں کا اُبال: ہڑتالوں پر پولیس کارروائی، سی.اے.ایس.آر نے اٹھائے سوال

ہریانہ کے صنعتی علاقے آئی ایم ٹی مانیسر میں اپریل 2026 کے آغاز سے ہی مزدوروں کے وسیع احتجاج اور ہڑتالوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ملک بھر میں، خاص طور پر توانائی کے شعبے اور صنعتی مراکز میں پھیلی بے چینی کی اس لہر کا مرکز مانیسر بن گیا ہے، جہاں کنٹریکٹ مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے منظم تحریک شروع کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق، 2 اپریل سے شروع ہونے والی ان ہڑتالوں میں ہونڈا، منجال شووا، ستیام آٹو، روپ پولیمرز، ریچیکو گلوبل، ماڈیلاما ایکسپورٹس، ریکو، سپراجیت انجینئرنگ اور سرما ایس جی ایس جیسی کئی کمپنیوں کے کنٹریکٹ مزدور شامل ہیں۔ مزدوروں کے اہم مطالبات میں کم از کم اجرت میں اضافہ، 8 گھنٹے کے کام کے دن کا نفاذ، اوور ٹائم کی دوگنی ادائیگی، بہتر حفاظتی معیار اور باوقار کام کے حالات شامل ہیں۔اس دوران کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن (سی اے ایس آر) نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے مانیسر اور ملک بھر کے مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے ہریانہ پولیس کی کارروائی کو “ظالمانہ اور منظم جبر” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔پریس بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی مزدور نمائندوں اور مزدور تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کو احتجاجی مقام سے حراست میں لیا گیا، یہاں تک کہ کچھ کو ان کے گھروں سے بھی اٹھایا گیا۔ انہیں تھانوں میں لے جا کر زبردستی دستاویزات پر دستخط کرانے کا بھی الزام ہے۔ اس کے علاوہ لاٹھی چارج اور جسمانی تشدد کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس میں کئی مزدور زخمی ہوئے ہیں۔ بھاری پولیس نفری کی تعیناتی سے علاقے میں خوف اور دباؤ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن (سی اے ایس آر) کا کہنا ہے کہ مانیسر کا یہ واقعہ کوئی الگ معاملہ نہیں بلکہ ملک بھر میں مزدور تحریکوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر کے ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ بیان میں ٹریڈ یونین رہنما بچہ پرساد سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے یو اے پی اے کے تحت جیل میں ہیں۔ ساتھ ہی چھتیس گڑھ میں مزدور اور ثقافتی کارکنوں پر این آئی اے کی کارروائی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔تنظیم نے نئے لیبر قوانین پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین ہڑتال کے حق کو محدود کرتے ہیں، آجر کو زیادہ اختیار دیتے ہیں اور کنٹریکٹ مزدوروں کے تحفظ کو کمزور کرتے ہیں۔ اس سے کارپوریٹ اور ریاست کے گٹھ جوڑ کو تقویت ملتی ہے، جبکہ مزدوروں کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن (سی اے ایس آر) نے تمام جمہوری تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ مانیسر کے مزدوروں کے حق میں سامنے آئیں، پولیس کارروائی کی جوابدہی کا مطالبہ کریں اور مزدور تحریکوں کو مجرمانہ بنانے کی مخالفت کریں۔مانیسر کی یہ جدوجہد اب صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ پورے ملک میں بڑھتی ہوئی مزدور بے چینی اور حقوق کی جدوجہد کی ایک علامت بنتی جا رہی ہے۔