مدھیہ پردیش کے قبائلی گاؤں شکرواسا میں 30 اکتوبر کی شب HOWL (How Ought We Live) نامی سماجی تنظیم کے کیمپ میں آگ لگ گئی۔ HOWL کے اراکین کا الزام ہے کہ مقامی انتظامیہ نے پہلے کیمپ کو منہدم کرنے کے بعد یہ آگ جان بوجھ کر لگائی۔ آگ میں لائبریری، دو گاڑیاں، چکی اور دیگر مشینری مکمل طور پر جل گئی۔
تنظیم HOWL کے بانی سوروو بنرجی اور دیگر اراکین نے بتایا کہ یہ کیمپ قبائلی کمیونٹی کے لیے خود مختاری اور سماجی انصاف کی علامت تھا۔ یہاں مچھلی کی پرورش، پولٹری، روزگار کی تربیت اور تعلیم جیسے منصوبے چلائے جاتے تھے۔
اراکین نے الزام لگایا کہ آگ لگنے سے پہلے انہیں مقامی ہندو تنظیموں اور دو افراد — نیلش پٹیل اور برہما نند چوہدری — کی جانب سے دھمکیاں دی گئی تھیں۔ آگ لگنے کے وقت گاؤں کے لوگ خوف کی وجہ سے بیان دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
تنظیم HOWL پر مذہبی تبدیلی (کنورژن) کا الزام بھی لگایا گیا، لیکن تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ تمام اراکین ہندو ہیں اور گاؤں میں کسی کا مذہب تبدیل نہیں ہوا۔ جولائی 2025 میں HOWL کے بانی سوروو بنرجی کو بغیر وارنٹ حراست میں لیا گیا تھا، بعد میں انہیں ضمانت ملی۔
اراکین نے پولیس اور مقامی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ انہیں دھمکا رہے ہیں اور گاؤں میں داخلے پر پابندی لگا رہے ہیں۔ HOWL کی رکن شویتا رگھوونشی نے کہا کہ تنظیم کی کوششوں نے گاؤں کی خواتین اور خاندانوں کی زندگی بدل دی ہے، اور کئی دیہاتیوں نے ہنر کی تربیت کے ذریعے روزگار حاصل کیا۔
تنظیم HOWL نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کیمپ کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔ اراکین نے واضح کیا “یہ ہمارا کیمپ تھا، ہماری زمین، ہماری چکی، ہماری لائبریری — اور ہم اسے دوبارہ قائم کریں گے۔”