مدھےپورہ شہر کے ریلوے اسٹیشن پر منگل کی صبح ایک 25 سالہ خاتون کی لاش مشتبہ حالت میں ملنے سے سنسنی پھیل گئی۔ پلیٹ فارم نمبر دو پر بینچ پر لیٹی خاتون کے پاس اس کی دو کمسن بیٹیاں بیٹھی رو رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون کا سر ایک بچی کی گود میں تھا جبکہ دوسری بچی اس کے پیروں کے پاس بیٹھی تھی۔
صبح کے وقت مسافروں نے خاتون کو سویا ہوا سمجھا، لیکن طویل وقت تک کوئی حرکت نہ ہونے اور بچیوں کے رونے پر لوگوں کو شبہ ہوا۔ قریب جا کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ خاتون کی موت ہو چکی ہے۔ اطلاع ملنے پر جی آر پی موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
موقع پر موجود افراد کے مطابق بچیوں نے بتایا کہ ان کے والد انہیں آٹو رکشہ سے اسٹیشن لائے تھے اور ماں کو بینچ پر لٹا کر چلے گئے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں کے بیان کی صداقت کی جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کے گلے پر نشانات پائے گئے ہیں، جس سے معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں خودکشی اور قتل—دونوں پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔
مقامی ذرائع کے مطابق متوفیہ دو بیٹیوں کی ماں تھی اور مبینہ طور پر حاملہ بھی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک ماہ قبل اس کا اپنے شوہر سے تنازع ہوا تھا اور وہ علیحدہ رہ رہی تھی۔ پولیس خاندانی تنازع سمیت دیگر ممکنہ اسباب کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔
متوفیہ کی ایک رشتہ دار نے خاتون کے مبینہ عاشق اور اس کے اہل خانہ پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے تحریری درخواست دی ہے۔ جی آر پی نے درخواست کی بنیاد پر زیرو ایف آئی آر درج کر کے معاملہ متعلقہ تھانے کو منتقل کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کی سنجیدگی سے جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کے کئی گھنٹوں بعد تک اہل خانہ کا موقع پر نہ پہنچنا بھی بحث کا موضوع بنا رہا۔ فی الحال دونوں کمسن بچیوں کی دیکھ بھال کا انتظام ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ معاملہ خودکشی کا ہے یا منصوبہ بند قتل کا۔