انصاف ٹائمس ڈیسک
لکھنؤ کے نگوہاں تھانہ علاقے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جو پچھلے دو سالوں سے شیڈول کاسٹ (SC) کمیونٹی کے لوگوں کو جادوئی علاج کے بہانے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ گرفتار شدہ کی شناخت ملکھان (43) کے طور پر ہوئی ہے، جو بکٹوری کھیرہ کا رہائشی ہے۔
پولیس کے مطابق، ملکھان نے اپنے کھیت میں ایک ہال نما عمارت بنائی تھی، جسے وہ ‘چرچ’ کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ وہ ہر اتوار اور جمعرات کو یہاں ‘جادوی علاج’ کے نام پر دعائیہ اجتماعات منعقد کرتا تھا۔ ان اجتماعات میں وہ لوگوں کو بیماری سے نجات، مالی امداد اور دیگر ترغیبات دے کر مذہب تبدیل کرنے کے لیے راغب کرتا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ ملکھان نے اب تک کم از کم 15 افراد کا مذہب تبدیل کروایا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک واٹس ایپ گروپ “Yeshu Changai Sabha” بھی بنایا تھا۔ پولیس نے اس کے قبضے سے مذہبی کتب، بپتسمہ کی اشیاء اور ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد کیے ہیں۔
اس معاملے میں بجرنگ دل کے رکن دھرمیندر شرما نے شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر تحقیقات شروع کیں۔ ڈی سی پی (جنوب) نیپون اگروال کے مطابق، ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے ترغیبات، جادوی علاج کے دعووں اور ہدف شدہ مذہب تبدیلی کے ذریعے لوگوں کو پھنسانے کی کوشش کی۔
پولیس نے اس معاملے میں دیگر افراد سے بھی تفتیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اس ریکٹ کے دیگر ارکان اور مالی ذرائع کا پتہ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ معاشرے کے کمزور طبقات کے حوالے سے حساسیت اور آگاہی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی ترغیب یا دباؤ سے محفوظ رہ سکیں۔