منریگا قانون میں تبدیلی کرکے مجوزہ وی بی–جی رام جی قانون نافذ کیے جانے کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں کی ملک گیر اپیل پر پیر کے روز ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں مشترکہ احتجاجی مارچ اور مزاحمتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوران بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مرکزی حکومت پر دیہی مزدوروں کے روزگار کے حق پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاجی مارچ کی شروعات جی پی او گولمبر سے ہوئی، جہاں جھنڈوں اور بینروں سے لیس مظاہرین نے “منریگا پر حملہ برداشت نہیں کریں گے”، “مہاتما گاندھی کے نام سے نفرت برداشت نہیں کریں گے” اور “غریبوں کے حقوق پر حملہ بند کرو” جیسے نعرے لگائے۔ مارچ اسٹیشن گولمبر پہنچ کر ایک بڑے مزاحمتی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔
جلسے کی مشترکہ صدارت سی پی آئی کے ضلعی سکریٹری وشوجیت کمار اور سی پی ایم کے ضلعی سکریٹری کامریڈ شیوکمار ودیارتھی نے کی۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ایم ریاستی سیکریٹری منڈل کے رکن منوج چندرونشی، سی پی آئی ریاستی سیکریٹری منڈل کے رکن عرفان احمد فاطمی، اے آئی ٹی یو سی بہار کے ریاستی صدر غزنفر نواب، اے آئی وائی ایف کے قومی صدر روشن کمار سنہا سمیت دیگر رہنماؤں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔
مقررین نے کہا کہ اب ملک میں روزگار کا بھی “فرقہ وارانہ رنگ” دیا جا رہا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ پہلے بی جے پی حکومت مسلمانوں کے نام پر نفرت پھیلاتی تھی اور اب مہاتما گاندھی کے نام سے بھی نفرت کی جا رہی ہے، جس کی مثال یہ مجوزہ وی بی–جی رام جی قانون ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ منریگا جیسے روزگار ضمانت قانون کو کمزور کرکے مرکزی حکومت اس کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر ڈالنا چاہتی ہے، جس سے غریب اور دیہی مزدوروں کے حقوق متاثر ہوں گے۔
جلسے میں یہ بھی کہا گیا کہ یو پی اے–۱ حکومت کے دوران بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے پہلی مرتبہ ملک میں روزگار کے حق کو قانونی ضمانت حاصل ہوئی تھی، لیکن موجودہ حکومت اسے کارپوریٹ مفادات کے لیے تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اعلان کیا کہ وہ اس قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔
احتجاج میں سی پی آئی اور سی پی ایم کے متعدد ریاستی اور ضلعی سطح کے رہنما، کارکنان اور سینکڑوں کی تعداد میں حامی شریک ہوئے۔ پروگرام کے اختتام پر تحریک کو مزید تیز کرنے کا عزم دہرایا گیا۔