انصاف ٹائمس ڈیسک
ہر سال 2 اکتوبر کو ملک بھر میں مہاتما گاندھی کی جینتی منائی جاتی ہے۔ عدم تشدد، سچائی اور چرکھے کی گونج کے بیچ اسی دن ملک کے دوسرے وزیرِاعظم لال بہادر شاستری کی سالگرہ بھی آتی ہے۔ 2 اکتوبر 1904 کو پیدا ہونے والے شاستری جی نے سادگی، ایمانداری اور مضبوط قیادت کے ذریعے بھارتی سیاست کو نئی سمت دی۔
گاندھی جی کے خیالات سے متاثر ہوکر شاستری محض 17 برس کی عمر میں تعلیم ترک کر کے عدم تعاون تحریک میں شامل ہوگئے اور آزادی کی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کیا۔ نمک ستیاگرہ اور بھارت چھوڑو تحریک میں حصّہ لینے کے باعث انہیں کئی مرتبہ جیل جانا پڑا اور مجموعی طور پر نو سال قید بھگتنی پڑی۔
پنڈت نہرو کے انتقال (27 مئی 1964) کے بعد جب ملک مشکلات اور بے یقینی سے گھرا ہوا تھا، تو 9 جون 1964 کو لال بہادر شاستری کو اتفاقِ رائے سے وزیرِاعظم منتخب کیا گیا۔ ابتدا میں انہیں “سمجھوتے کا امیدوار” کہا گیا، لیکن محض 18 مہینوں میں انہوں نے ایسے فیصلے کیے جن سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما ہیں۔
شاستری جی کی سادگی ان کی پہچان تھی۔ وزیرِاعظم رہتے ہوئے بھی انہوں نے سرکاری مراعات کو ٹھکرایا اور خود راشن لینے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔ انہوں نے قیادت کا یہ نیا پیغام دیا کہ اصل طاقت مثال قائم کرنے میں ہے۔
1965 کی بھارت-پاک جنگ اور غذائی بحران کے دوران انہوں نے قوم کو “جے جوان، جے کسان” کا نعرہ دیا، جس نے کسانوں اور فوجیوں کو یکساں عزت دی اور خود کفیل بھارت کی راہ دکھائی۔ اسی دور میں انہوں نے آپریشن فلڈ، بی ایس ایف، سی بی آئی اور ایف سی آئی جیسی اہم اداروں کی بنیاد رکھی۔
البتہ، 11 جنوری 1966 کو تاشقند میں امن مذاکرات کے بعد ان کا اچانک انتقال ہوگیا، جو آج بھی ایک معمہ ہے۔ لیکن ان کے مختصر دورِ اقتدار نے یہ واضح کردیا کہ وہ محض حالات کے سبب وزیرِاعظم نہیں بنے تھے، بلکہ صحیح وقت پر درست فیصلے کرنے والے ایک سچے رہنما تھے۔
گاندھی جینتی کے شور میں اکثر شاستری جی کا ذکر پیچھے رہ جاتا ہے، لیکن ان کی سادگی، ایمانداری اور دوراندیشی انہیں بھارتی سیاست کا ایک دائمی استعارہ بنا دیتی ہے۔