مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور ہمایوں کبیر کی عام جنتا اُنّیان پارٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے انتخابی اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
دونوں جماعتوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ریاست میں “نیا سیاسی متبادل” قرار دیا ہے۔
اویسی کا بیان — باوقار حصہ داری کے ساتھ میدان میں اتریں گے
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ ان کی جماعت مغربی بنگال میں مضبوطی کے ساتھ انتخاب لڑے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں اقلیتوں کو اب تک صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اویسی نے کہا “ہم یہاں کے لوگوں کو ایک مضبوط اور ایماندار سیاسی متبادل دینے آئے ہیں۔”
ہمایوں کبیر — تبدیلی کی شروعات
ہمایوں کبیر نے اس اتحاد کو “تبدیلی کی شروعات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام جنتا اُنّیان پارٹی زمینی سطح پر اپنی تنظیم کو مضبوط کر رہی ہے اور مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ مل کر یہ اتحاد عام عوام، خاص طور پر پسماندہ اور اقلیتی طبقات کی آواز بنے گا۔
سیٹوں کی تقسیم کا خاکہ
اتحاد سے جڑے ذرائع کے مطابق عام جنتا اُنّیان پارٹی ریاست کی زیادہ تر نشستوں پر انتخاب لڑے گی، جبکہ مجلس اتحاد المسلمین محدود مگر اہم نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین تقریباً 8 نشستوں پر جبکہ عام جنتا اُنّیان پارٹی 150 سے زائد نشستوں پر دعویداری کر سکتی ہے۔
اقلیتی اکثریتی علاقوں پر توجہ
اتحاد کی حکمت عملی مرشد آباد، مالدہ اور اتر دیناجپور جیسے اضلاع پر مرکوز ہے، جہاں اقلیتی ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر انتخابی چیلنج پیش کریں گی۔
ٹی ایم سی اور بی جے پی پر تنقید
پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا۔
ترنمول کانگریس پر وعدہ خلافی اور علامتی سیاست کا الزام لگایا گیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی پر فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
اویسی نے واضح کیا کہ ان کا اتحاد کسی بھی جماعت کی “بی ٹیم” نہیں ہے بلکہ یہ عوامی مسائل پر آزادانہ سیاست کرے گا۔
سیاسی ردِعمل اور تجزیہ
اتحاد کے اعلان کے بعد سیاسی ردِعمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے اسے “ووٹ کٹوا” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اقلیتی ووٹ تقسیم ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد کئی نشستوں کے نتائج کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر قریبی مقابلے والی سیٹوں پر اس کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔