سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت کے ردِعمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی خاموشی کو ’’سنگین سفارتی لغزش‘‘ قرار دیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی صدر ایم۔ کے۔ فیضی نے جاری بیان میں کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے اور وسیع تر علاقائی تصادم کا خدشہ گہرا ہو گیا ہے۔ اُن کے مطابق اس صورتحال کے اثرات عالمی استحکام، توانائی کی سلامتی اور خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی تارکینِ وطن کی حفاظت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
فیضی نے الزام عائد کیا کہ بھارت کا سرکاری ردِعمل محض تحمل برتنے کی اپیل تک محدود رہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بیان میں نہ تو مبینہ ہلاکت کا واضح حوالہ دیا گیا اور نہ ہی اس کی سنگینی کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی تشویش کے پیشِ نظر بھارت کو واضح اور اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
ایس ڈی پی آئی صدر نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ مشترکہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے اور علاقائی استحکام کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ اور عسکری جارحیت کسی بھی تنازع کا حل نہیں۔ ایسے حملے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ فیضی نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کر کے جنگ بندی یقینی بنانے اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی اپیل کی۔
فیضی نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال اور اجتماعی سزا کی پالیسیاں خطے میں ناانصافی اور عدم استحکام کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔
ایس ڈی پی آئی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فعال سفارتی اقدامات کرے اور بین الاقوامی تعلقات میں انصاف، مکالمے اور امن کی اقدار کے ساتھ اپنی وابستگی واضح کرے۔