کرناٹک کا ’ہیٹ اسپیچ‘ بل امید کی کرن بنا، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا خیرمقدم؛ قومی قانون کا مطالبہ

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کرناٹک حکومت کی جانب سے ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائمز پریوینشن بل پیش کیے جانے کا زوردار خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی نے اسے موجودہ حالات میں ایک جرأت مندانہ، ذمہ دارانہ اور بروقت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ملک میں نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے وقت میں یہ اقدام جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نہایت اہم ہے۔

ایس.ڈی.پی.آئی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقات کو مسلسل گالی گلوچ، دھمکیوں اور نفرت انگیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مفادات کے لیے نفرت کو معمول بنانے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ مرکزی حکومت اس سنگین مسئلے پر خاموش رہی، جس کے نتیجے میں ایسے عناصر کو مزید تقویت ملی۔

پارٹی نے واضح کیا کہ نفرت پھیلانے والی تقاریر کو اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی کا مقصد خیالات، بحث و مباحثہ، اختلاف اور تنقید کا تحفظ ہے، نہ کہ کسی کمیونٹی کی توہین، دھمکی یا اس کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کا حق دینا۔ جب تقریر کا استعمال سماج کو تقسیم کرنے اور خوف پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے تو یہ جمہوریت کو کمزور کرتا ہے اور شہریوں کی عزت و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے کہا کہ کرناٹک حکومت کی یہ پہل اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی سطح پر بھی نفرت کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پارٹی نے اسے ایک نمونہ قدم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اب مرکزی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور پورے ملک کے لیے ایک مضبوط قومی قانون نافذ کیا جانا چاہیے، تاکہ تمام ریاستوں میں یکساں اور مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ قومی سطح پر قانون بننے سے یہ بات یقینی ہوگی کہ نفرت انگیز زبان استعمال کرنے والے بااثر افراد اور سیاسی عہدوں پر فائز لوگ بھی جوابدہ ہوں، اور کوئی بھی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہ رہے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پارٹی انصاف، مساوات، ہم آہنگی اور ہر شہری کے احترام کے اصولوں کے لیے پُرعزم ہے۔ پارٹی نے کہا کہ جمہوریت کو مضبوط بنانے اور نفرت پر مبنی سیاست سے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت کی جاتی رہے گی۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو