آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کرناٹک کے امیرِ شریعت حضرت مولانا صغیر احمد رشادی اور ممتاز مفکر و ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے دونوں بزرگ شخصیات کے وصال کو ملک، ملت اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحمٰن مجددی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت مولانا صغیر احمد رشادی نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک میں ایک جید اسلامی عالم اور نہایت معزز سماجی شخصیت تھے۔ وہ بنگلورو کے معروف اسلامی تعلیمی ادارے جامعہ سبیلُ الرشاد کے ریکٹر تھے اور امیرِ شریعتِ کرناٹک کی حیثیت سے انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
جنرل سکریٹری نے بتایا کہ ایک سال قبل مولانا رشادی کی سرپرستی اور میزبانی میں ہی جامعہ سبیلُ الرشاد، بنگلورو میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا عام اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کے دوران کیے گئے شاندار انتظامات اور پُرخلوص میزبانی کو بورڈ کے تمام اراکین اور مدعو مہمانوں نے بے حد سراہا تھا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف بورڈ بلکہ پورے ملک اور ملت کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
اسی طرح بورڈ کے ایک اور سینئر بانی رکن، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے بانی اور معروف مفکر ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال کو بھی مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک بڑی محرومی قرار دیا ہے۔ مولانا مجددی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی بنیاد رکھ کر ایک اعلیٰ تحقیقی ادارہ اور فکری مرکز قائم کیا، جو اس دور کی ایک نہایت اہم ضرورت تھی۔ وہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور آل انڈیا ملی کونسل کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ڈاکٹر محمد منظور عالم گزشتہ کچھ عرصے سے شدید علیل تھے، تاہم آخری وقت تک وہ ملک اور ملت سے متعلق اہم مسائل پر بیدار اور فکرمند رہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ نے دونوں مرحومین کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کے اہلِ خانہ اور رفقا کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ملت کو ان جیسی باصلاحیت قیادت سے نوازے۔