مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے سخت بیان نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس پر اسرائیلی قیادت کی جانب سے شدید اور تلخ ردعمل سامنے آیا ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق، استنبول میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیاسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے اسرائیل پر فلسطین اور لبنان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو “بربریت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عالمی قوانین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ایک نہایت اہم اور متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کو مضبوط ہونا ہوگا تاکہ وہ اسرائیل کو روک سکے، اور اگر ضرورت پڑی تو وہ ماضی کی طرح عسکری اقدامات بھی کر سکتا ہے۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق، انہوں نے ناگورنو کاراباخ اور لیبیا میں ترکی کی سابقہ مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرز پر اسرائیل کے خلاف بھی قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔
اس بیان کو اسرائیل میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، اور بالواسطہ طور پر رجب طیب اردوان پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر امیچائی ایلیاہو نے بھی سخت ردعمل دیا۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق، انہوں نے رجب طیب اردوان کو “مغلوب العنان آمر” اور “سامراجی عزائم رکھنے والا رہنما” قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ اسرائیل کو ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، منی کنٹرول کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی کشیدگی میں تیزی آ گئی ہے، جسے ماہرین ایک خطرناک سفارتی تصادم قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال اب صرف اختلاف تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ترکی کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ حریت ڈیلی نیوز کے مطابق، ترکی کی وزارتِ خارجہ نے بنیامین نیتن یاہو کے بیانات کو “جھوٹ، توہین آمیز اور بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ترکی ہمیشہ عالمی سطح پر سچ اور انصاف کی بات کرتا رہا ہے اور اسرائیل کا ردعمل دراصل ان حقائق سے گھبراہٹ کا نتیجہ ہے جو ترکی مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔
یہ کشیدگی ایک وسیع تر پس منظر رکھتی ہے۔ غزہ جنگ کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ حریت ڈیلی نیوز کے مطابق، ترکی پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود یا معطل کر چکا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں ترک عدالت کی جانب سے بنیامین نیتن یاہو سمیت کئی اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، لبنان، ایران اور غزہ میں جاری تنازعات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث کسی بھی سخت بیان یا اقدام کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ رجب طیب اردوان کا بیان براہِ راست جنگ کا اعلان نہیں، تاہم اسے ایک واضح سیاسی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی خود کو فلسطینی عوام کا مضبوط حامی ظاہر کرنا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل اس بیان کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بیانات کی یہ کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو یہ کسی بھی وقت عملی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔