انصاف ٹائمس ڈیسک
جمعرات کی شام جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں دیوی کے پوجا کے دوران ہنگامہ پھوٹ پڑا۔ واقعہ سبرمتی ٹی پوائنٹ کے قریب پیش آیا، جہاں مختلف طلبہ گروپوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا۔
جواہر لال یونیورسٹی کے طلبہ یونین (JNUSU) کے صدر نتیش کمار نے بتایا کہ دن کے دوران ایک پوسٹر گردش میں آیا، جس میں جیل میں قید طلبہ عمر خالد اور شرجیل امام کو راون کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ “اس کے خلاف دیگر طلبہ گروپوں نے احتجاج کیا، اور جب ABVP کا سرسوتی وسرجن والا جلوس وہاں پہنچا تو صورتحال قابو سے باہر ہو گئی،”
نتیش کمار نے الزام لگایا کہ ABVP کے ارکان جلوس کے دوران ‘جے شری رام’ اور ‘یوگی جی کا بلڈوزر انصاف آ گیا ہے’ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے جلوس کے دوران چپلیں بھی لہرائیں، جس سے ماحول مزید گرم ہو گیا۔
دوسری جانب، اکھل بھارتی ودھیارتھی پریشد (ABVP) نے بائیں بازو کے گروپوں جیسے AISA، SFI اور DSF پر جلوس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ ABVP کا کہنا ہے کہ طلبہ پر پتھر پھینکے گئے اور خواتین طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔ “یہ صرف تشدد نہیں بلکہ ہماری روایات پر حملہ ہے۔”
واقعہ کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں تناؤ برقرار ہے۔ JNU انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ طلبہ گروپوں نے انتظامیہ سے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تنازعہ JNU میں سیاسی اور فرقہ وارانہ تناؤ کی ایک اور کڑی ثابت ہو رہا ہے اور یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول پر اثر ڈال رہا ہے۔