جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سرکاری صحت نظام کی بے حسی نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔ چائباسہ صدر اسپتال میں علاج کے دوران چار ماہ کے ایک آدیواسی بچے کی موت کے بعد اسپتال انتظامیہ نے لاش کو گھر پہنچانے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ مجبوراً ایک غریب آدیواسی خاندان اپنے معصوم بچے کی لاش پلاسٹک کے بیگ میں رکھ کر گاؤں واپس جانے پر مجبور ہو گیا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق، نوآمنڈی بلاک کے بالجوڑی گاؤں کے رہائشی دِمبا چاتومبا اپنے چار ماہ کے بیمار بیٹے کو جمعرات کے روز علاج کے لیے چائباسہ صدر اسپتال لے کر آئے تھے۔ اسپتال میں داخلے کے دوران بچے کی حالت مسلسل بگڑتی گئی اور جمعہ کی دوپہر اس کی موت ہو گئی۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ بچے کی موت کے بعد انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے لاش کو گاؤں تک پہنچانے کے لیے گاڑی یا ایمبولینس فراہم کرنے کی درخواست کی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ کئی گھنٹوں تک اسپتال کے احاطے میں انتظار کرتے رہے، لیکن کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ نہ ایمبولینس دی گئی اور نہ ہی کوئی متبادل انتظام کیا گیا۔
خاندان نے الزام لگایا کہ اسپتال انتظامیہ نے ان کی مجبوری پر کوئی حساسیت نہیں دکھائی۔ آخرکار مالی تنگی اور بے بسی کے عالم میں اہلِ خانہ نے بچے کی لاش پلاسٹک بیگ میں رکھی اور کسی طرح اپنے گاؤں بالجوڑی پہنچے۔ اس دوران اہلِ خانہ کی آنکھوں میں آنسو اور چہروں پر بے بسی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں اور سماجی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف صحت سہولیات اور ایمبولینس خدمات کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، جبکہ زمینی حقیقت نہایت خوفناک ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ جب سرکاری اسپتالوں میں غریب اور آدیواسی خاندانوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے تو عام عوام انصاف اور حساسیت کی امید کیسے کریں؟
اس معاملے میں اب تک اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ لاش لے جانے کے لیے گاڑی کیوں فراہم نہیں کی گئی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر جھارکھنڈ کے بگڑتے ہوئے صحت نظام، آدیواسی علاقوں میں سرکاری لاپروائی اور غریبوں کے تئیں نظام کی بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی یا یہ بھی دیگر معاملات کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟