راجستھان کے ہوا محل اسمبلی حلقے میں ایک بوٹھ سطح کے افسر نے الزام لگایا ہے کہ اُن پر مسلم ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کرنے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس دباؤ کے باعث انہوں نے خودکشی کی دھمکی تک دے دی ہے۔ یہ واقعہ خاص ووٹرز کی ترمیمی عمل کے دوران سامنے آیا ہے، جس نے انتخابی عمل میں نئی تنازعات کی لکیریں کھینچ دی ہیں۔
بوٹھ افسر کرتی کمار، جو ایک سرکاری اسکول کے استاد ہیں اور ہوا محل اسمبلی میں ووٹر لسٹ اپ ڈیٹ کے عمل میں تعینات ہیں، کا دعویٰ ہے کہ انہیں ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے تقریباً چار سو ستر ووٹروں کو خارج کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جن میں اکثریت مسلم ووٹروں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹر پہلے ہی تصدیقی عمل کے دوران درست ثابت ہو چکے ہیں۔
ایک وڈیو میں وہ فون پر خودکشی کی دھمکی دیتے سنے جا سکتے ہیں، جس میں کہتے ہیں کہ وہ کلکٹر آفس جا کر خودکشی کر سکتے ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے مقامی نمائندے سے کہا، “پورا محلہ ہی ہٹا دوں تو شاید انتخابات میں جیتنے میں مدد ملے۔”
بی جے پی کے رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی ترمیم انتخابی کمیشن کے قواعد کے مطابق کی جا رہی ہے اور کسی بھی کمیونٹی کے خلاف کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ دوسری طرف، اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر لسٹ کی ترمیمی عمل میں امتیاز اور سیاسی مداخلت کے الزامات عائد کیے ہیں، جس میں مسلم اور دیگر کمیونٹی کے ووٹروں کو ہدف بنانے کا بھی الزام شامل ہے۔
انتخابی کمیشن نے اس معاملے پر فوری تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ حقائق کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیشن نے واضح کیا کہ کسی کے نام کو ووٹر لسٹ سے ہٹانا یا شامل کرنا قواعد کے مطابق ہونا ضروری ہے اور بے ضابطگی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے نے خاص ووٹرز کی ترمیمی عمل پر اٹھنے والے سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹانے، کام کے دباؤ، اور ووٹر نمائندگی کی شفافیت سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ ساتھ ہی انتخابی اہلکاروں کی ذہنی صحت اور انتخابی عمل پر پڑنے والے دباؤ پر بھی سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے۔
راجستھان کی خاص ووٹرز کی ترمیمی عمل میں سیاسی دباؤ، ووٹر لسٹ میں غیر مساوی مداخلت اور بوٹھ افسر کی خودکشی کی دھمکی نے انتخابی عمل کی شفافیت پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔