مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے سلگتا ہوا تناؤ ہفتے کے روز کھلی فوجی کارروائی میں تبدیل ہو گیا۔ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک نے ایران کے خلاف “ابتدائی فوجی حملہ” شروع کر دیا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی فوج نے جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی قومی سلامتی کے پیشِ نظر کی گئی ہے اور ممکنہ خطرات کو “غیر مؤثر” بنانے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق شہریوں کو احتیاطاً محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
تہران کے مقامی ذرائع اور سرکاری میڈیا نے دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم حملے میں ہونے والے نقصانات اور ممکنہ جانی ہلاکتوں سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دارالحکومت کے بعض علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کی نقل و حرکت میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کے حوالے سے اسرائیل کی دیرینہ تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے براہِ راست اور بالواسطہ کشیدگی، علاقائی اثر و رسوخ کی مسابقت اور سکیورٹی الزامات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
اسرائیلی فوج، جسے اسرائیل ڈیفنس فورسز کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ملک بھر میں الرٹ کی سطح بڑھا دی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی برادری نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد ممالک نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتِ حال کو مزید نہ بگاڑنے کی اپیل کی ہے۔ سفارتی حلقوں میں اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کے استحکام اور عالمی توانائی کی فراہمی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
فی الحال خطے میں حالات کشیدہ ہیں اور عالمی برادری کی نظریں تہران اور یروشلم کی آئندہ حکمتِ عملی پر مرکوز ہیں۔