عراق کی سیاست میں طویل عرصے سے جاری اقتدار کا بحران بالآخر ختم ہو گیا ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کن ووٹنگ کے دوران کرد رہنما نزار امیدی کو عراق کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک تقریباً پانچ ماہ سے مکمل حکومت کے بغیر سیاسی غیر یقینی صورتحال کا شکار تھا۔
دارالحکومت بغداد میں سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ہونے والے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں نزار امیدی نے 227 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدِمقابل امیدوار کو صرف 15 ووٹ مل سکے۔ یہ نتیجہ عراقی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت اور سیاسی توازن میں بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
کرد قیادت کی واپسی اور طاقت کا توازن
نزار امیدی کا صدر منتخب ہونا عراق کے پیچیدہ پاور شیئرنگ نظام میں کرد برادری کی مضبوط واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں جو سیاسی ڈھانچہ قائم ہوا، اس کے تحت صدر کا منصب کرد برادری، وزیر اعظم شیعہ جماعتوں اور پارلیمنٹ اسپیکر سنی برادری کے لیے مخصوص کیا گیا۔ اس نظام کا مقصد مختلف برادریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا تھا، تاہم وقت کے ساتھ یہی ڈھانچہ سیاسی اختلافات اور تعطل کی وجہ بھی بنتا گیا۔
پی یو کے کی حمایت فیصلہ کن ثابت ہوئی
نزار امیدی کی امیدواری کو کرد سیاسی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) کی حمایت حاصل تھی، جو اس انتخاب میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی۔
کرد سیاست طویل عرصے سے دو بڑے دھڑوں میں منقسم رہی ہے، جس کی وجہ سے صدر کے منصب پر مشترکہ اتفاق رائے مشکل رہا ہے۔ پی یو کے کی جانب سے نزار امیدی کے نام پر اتفاق کو سیاسی اتحاد کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حمایت نے پارلیمنٹ میں ان کے حق میں واضح اکثریت پیدا کی اور طویل عرصے سے رکی ہوئی انتخابی عمل کو آگے بڑھایا۔
انتخابی تاخیر اور سیاسی تعطل
عراقی آئین کے مطابق صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے 30 دن کے اندر ہونا چاہیے تھا، لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات کی وجہ سے یہ عمل کئی ماہ تک تاخیر کا شکار رہا۔
خصوصاً کرد دھڑوں کے اندر اختلافات، شیعہ اتحاد میں طاقت کی تقسیم پر تنازع، اور وزیر اعظم کے منصب کے حوالے سے سیاسی کشمکش نے پوری حکومت سازی کو مفلوج کر دیا تھا۔
اس سیاسی تعطل کے باعث عراق تقریباً 150 دن تک مکمل حکومت سے محروم رہا۔
علاقائی کشیدگی اور سلامتی کے چیلنجز
عراق اس وقت وسیع علاقائی عدم استحکام کے دور سے گزر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل سے منسلک فوجی کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
ملک کے اندر بھی ایران نواز مسلح گروہوں اور غیر ملکی فوجی اڈوں کے درمیان کشیدگی نے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی دباؤ اور سیاسی اشارے
امریکی سیاسی قیادت، بشمول سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نے عراق کے سیاسی عمل پر سخت موقف اپنایا تھا۔ متنازع نامزدگیوں اور تاخیر پر بین الاقوامی دباؤ مسلسل برقرار رہا۔
اس دباؤ نے عراقی سیاسی جماعتوں کو سمجھوتے کی طرف بڑھنے پر مجبور کیا۔
اگلا مرحلہ: وزیر اعظم کا انتخاب
صدر کے انتخاب کے بعد اب عراق میں سب سے اہم اور حساس مرحلہ وزیر اعظم کا انتخاب ہے۔
آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر 15 دن کے اندر پارلیمنٹ کے سب سے بڑے اتحاد کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے، جس کے بعد 30 دن کے اندر کابینہ کی تشکیل لازم ہوگی۔
تاہم اصل سیاسی چیلنج یہیں سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ وزیر اعظم کے منصب پر شیعہ، سنی اور کرد گروہوں کے درمیان طاقت کے توازن کی پیچیدہ سیاست سامنے آتی ہے۔
نزار امیدی کا صدر منتخب ہونا عراق کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جو طویل عرصے سے جاری تعطل کے خاتمے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ کرد برادری کی سیاسی واپسی اور طاقت کے نئے توازن کی ابتدا بھی تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم ملک کا اصل امتحان ابھی باقی ہے جہاں وزیر اعظم کا انتخاب یہ طے کرے گا کہ عراق استحکام کی طرف بڑھے گا یا ایک اور سیاسی بحران میں داخل ہو جائے گا۔