وسطی مشرق میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی ہفتے کو کھلی لڑائی میں بدل گئی۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے فوراً بعد ایران نے بھی فیصلہ کن جواب دیا۔ میزائل اور ڈرون اب صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہے بلکہ خلیجی ممالک میں امریکی اور اتحادی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس اقدام سے پورے خطے میں سیکیورٹی بحران اور گہرا گیا ہے۔
ہفتے کی صبح امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران پر فضائی اور میزائل حملے شروع کیے۔ تہران، اصفہان اور کرج میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اسرائیل نے ہنگامی حالت نافذ کر دی اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت دی۔
ایران نے ‘بھاری اور فیصلہ کن جواب’ دینے کا اعلان کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔ میزائل اور ڈرون حملے فعال کر دیے گئے۔ اسرائیل میں سائرن بج اٹھے اور ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر فعال ہو گیا۔
خلیجی ممالک میں بھی حملے ہوئے۔ بحرین میں امریکی نیوی کے Fifth Fleet Headquarters کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ قطر کے Al Udeid ایئر بیس کے قریب میزائلز کو انٹرسپٹ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے قریب دھماکوں اور الرٹ کی اطلاعات موصول ہوئیں اور ایئر اسپیس بند کر دی گئی۔ کویت میں بھی میزائل پروازیں دیکھی گئیں اور الرٹ جاری کیا گیا۔ سعودی عرب نے براہِ راست حملے کی اطلاع نہیں دی، لیکن اعلیٰ سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ایران، قطر، بحرین، یو اے ای اور کویت نے اپنے ایئر اسپیس کو بند یا الرٹ موڈ میں رکھا۔ سائرن اور میزائل انٹرسپشن سسٹم مسلسل فعال ہیں۔ امریکی اور دیگر ممالک نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ اب محدود جھڑپ سے بڑھ کر وسیع خطّی جنگ میں بدل سکتا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک کو براہِ راست جنگی علاقے میں تبدیل کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک الرٹ پر ہیں اور فی الحال سفارتی حل ممکن نہیں دکھائی دے رہا۔
یہ تنازعہ اب صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر حملے، ایئر اسپیس کی بندش اور سائرن الرٹ نے پورے خطے کو عملی طور پر جنگی میدان میں بدل دیا ہے۔