بھارت کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 2026 میں عالمی سطح پر مضبوطی دکھا رہی ہے۔ وزارتِ خزانہ اور ریزرو بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی جی ڈی پی اب تقریباً ۳۳۰.۷ لاکھ کروڑ روپے کے پار پہنچ چکی ہے۔ امریکی ڈالر کے حساب سے یہ تقریباً ۴ ٹریلین ڈالر کے برابر ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ اس مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو ۶.۴ سے ۷.۴ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
حکومت کی منصوبہ بندیوں اور پالیسیوں کے باعث اقتصادی سرگرمیاں بخوبی جاری ہیں، لیکن ملک پر سرکاری قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ موجودہ وقت میں بھارت پر کل سرکاری قرض تقریباً ۱۸۵ لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں مرکز اور ریاستوں کے قرضے شامل ہیں۔ مالی ماہرین کے مطابق، یہ قرض ملک کی ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے لیا گیا ہے اور اسے قابو میں رکھنا اقتصادی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کے معاملے میں بھارت کی صورتحال نسبتا مضبوط ہے۔ ریزرو بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے پاس غیر ملکی کرنسی کے ذخائر تقریباً ۶۸۶.۸ ارب ڈالر یعنی ۶۸۷ ارب ڈالر کے برابر ہیں۔ ان میں غیر ملکی کرنسیاں، سونا اور آئی ایم ایف کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس شامل ہیں۔ دوسری طرف، بھارت کا غیر ملکی قرض تقریباً ۷۴۰ ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے ذخائر اس کے بیرونی قرض کے قریب قریب ہیں۔
بھارت کی حکومت نے “مشن ۲۰۴۷” کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آزادی کی ۱۰۰ویں سالگرہ تک بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنانا ہے۔ اس مشن کے تحت جی ڈی پی کو ۳۰ ٹریلین ڈالر تک بڑھانے، ہر شہری کے لیے مساوی مواقع اور روزگار یقینی بنانے، زرعی، صنعتی اور سروس سیکٹر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے، اور ڈیجیٹل اور ماحولیاتی معیشت کو مضبوط بنانے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مشن کی کامیابی صرف پالیسیوں پر منحصر نہیں بلکہ ہر بھارتی شہری کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق شہریوں کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ وقت پر ٹیکس کی ادائیگی، مقامی مصنوعات اور صنعتوں کی حمایت، توانائی کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ، تعلیم اور ہنر کی ترقی میں سرمایہ کاری، اور جدید اختراعات و اسٹارٹ اپ کلچر کو اپنانا ہر شہری کا فریضہ ہے۔ اگر حکومت اور شہری مل کر کام کریں تو ۲۰۴۷ تک بھارت خود کفیل اور عالمی اقتصادی طاقت بن سکتا ہے۔
بھارت کی جی ڈی پی تقریباً ۳۳۰.۷ لاکھ کروڑ روپے، سرکاری قرض تقریباً ۱۸۵ لاکھ کروڑ روپے، غیر ملکی کرنسی کے ذخائر ۶۸۷ ارب ڈالر اور غیر ملکی قرض تقریباً ۷۴۰ ارب ڈالر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کا توازن بھارت کی مالی استحکام کی نشاندہی کرتا ہے اور مستقبل میں مشن ۲۰۴۷ کی کامیابی اسی پر منحصر ہوگی۔