23 نومبر کو دارالحکومت دہلی کے انڈیا گیٹ پر ہوا آلودگی کے خلاف مظاہرے کے دوران گرفتار کیے گئے چھ طلبہ کو دہلی کی پٹیالا ہاؤس عدالت نے تقریباً ایک ماہ کی حراست کے بعد ضمانت دے دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ 26 دسمبر کو سنایا۔
ضمانت پانے والے طلبہ میں ایلککیا، آییشاہ وافیہ مدھاتھ، راوجوت کور، گُرکِرت کور، ابھیناش ستاپتی اور کرانتی المعروف پریانشو شامل ہیں۔ یہ تمام طلبہ دہلی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے منسلک ہیں۔
عدالت نے طلبہ کے لیے 50,000 روپے کا بانڈ اور ایک ضمانتی گارنٹر رکھنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی انہیں تفتیش میں تعاون کرنے، عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہونے اور بغیر اجازت ملک چھوڑنے سے گریز کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی۔
یہ مظاہرہ دہلی–این سی آر میں بڑھتے ہوئے فضائی آلودگی کے خلاف کیا گیا تھا، جس میں مظاہرین نے حکومت سے فوری کارروائی کی اپیل کی۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ کچھ مظاہرین نے پیپر اسپرے کا استعمال کیا اور متنازعہ نعرے لگائے، جس کے بعد دو ایف آئی آر درج کی گئیں اور کل 23 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مظاہرے میں شامل کچھ افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی، نکسلی نعرے لگائے اور مبینہ طور پر ممنوعہ تنظیموں سے تعلق کا دعویٰ کیا۔
عدالت نے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ملزمان کا کسی ممنوعہ تنظیم سے تعلق ہے۔ عدالت نے بغیر ٹھوس شواہد کے حراست جاری رکھنا غیر مناسب قرار دیا۔ اب تک 23 میں سے 22 ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے۔
طلبہ کے حمایتی اس مظاہرے کو پرامن احتجاج قرار دیتے ہوئے حراست کو غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون اور انتظام قائم رکھنا اولین فریضہ ہے۔
یہ فیصلہ دہلی میں آلودگی مخالف مظاہروں اور نوجوانوں کی آزادی اظہار کے درمیان عدالتی توازن کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔