اِنصاف ٹائمس ڈیسک
‘آئی لو محمد’ مہم کو لے کر اتر پردیش کے بریلی میں بھڑکے تشدد کے بعد یو پی پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے اتحادِ ملت کونسل (IMC) کے سربراہ مولانا توقیر رضا کو گرفتار کر لیا ہے۔ مولانا رضا اور ان کے ساتھیوں کو ہفتے کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل (Judicial Custody) میں جیل بھیج دیا گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے اور افواہوں کا سدِ باب کرنے کے لیے پورے بریلی شہر میں 48 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنے کا فوری حکم جاری کر دیا ہے۔
اس واقعے کا آغاز کانپور میں ‘آئی لو محمد’ کے بینر نصب کرنے پر کچھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہوا۔ اسی کے احتجاج میں مولانا توقیر رضا نے جمعہ کی نماز کے بعد بڑے مظاہرے کی کال دی تھی۔ اگرچہ پولیس نے اس مظاہرے کی اجازت نہیں دی تھی، اس کے باوجود بڑی تعداد میں حامی مولانا رضا کی رہائش گاہ اور اعلیٰ حضرت درگاہ کے آس پاس جمع ہو گئے۔ جب پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو ہجوم پُر تشدد ہو گیا۔
پولیس کا مظاہرین پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس جھڑپ میں 20 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف، عام لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہی پہلے لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کثیر تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
ڈی آئی جی اے کے ساہنی نے اس پورے واقعے کو ایک ‘پہلے سے طے شدہ سازش’ (Pre-planned Conspiracy) قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر تمام شرپسندوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور مثال قائم کرنے کے لیے سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
2000 نامعلوم افراد پر مقدمہ، مولانا پر 7 ایف آئی آر
تشدد بھڑکانے، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور امن و امان کو درہم برہم کرنے کے الزام میں پولیس نے مختلف تھانوں میں 10 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی ہیں۔
گرفتار کیے گئے 8 افراد میں مولانا توقیر رضا مرکزی ملزم ہیں، جن کے خلاف 7 علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس نے 24 نامزد اور 2000 نامعلوم شرپسندوں کے خلاف مقدمات قائم کیے ہیں۔ فی الحال، قریب 40 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے مقامی ہتھیار، پیٹرول کی بوتلیں اور لاٹھی ڈنڈے برآمد ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔
اس واقعہ پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت بیان دیتے ہوئے مولانا رضا پر براہِ راست تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ “ایک مولانا بھول گیا کہ یو پی کی سلطنت میں کون ہے۔ اب یہ دنگا کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔”
شہر میں دفعہ 163 (بغیر اجازت مظاہروں پر پابندی) نافذ ہے اور سینئر حکام مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔