دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ہنی بابو، جنہیں سنہ 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے، کو جمعرات کے روز بمبئی ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کر لی ہے۔
ان کی ساتھی اور ماہر تعلیم جینی رووینا نے ‘مکتوب میڈیا’ کو بتایا کہ جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس رنجیت سنہا راجہ بھونسلے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ تاہم، اس معاملے میں تفصیلی حکم کا ابھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
دلت اور قبائلی حقوق کے زبردست حامی اور ذات پات مخالف کارکن ڈاکٹر ہنی بابو کو قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے 28 جولائی 2020 کو گرفتار کیا تھا۔ وہ پچھلے چار برسوں سے نوی ممبئی کی تلوجہ سینٹرل جیل میں قید تھے۔
حکام نے ڈاکٹر ہنی بابو اور کئی دیگر نامور سماجی کارکنوں پر 31 دسمبر 2017 کو اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے ذات پات پر مبنی تشدد کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا، جس کے نتیجے میں اگلے روز مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں میں پر تشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔ حکام نے ان پر کالعدم ماؤ نواز گروپوں سے تعلقات رکھنے کا بھی الزام لگایا تھا۔ انہیں تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔
ڈاکٹر ہنی بابو کی اہلیہ اور دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر جینی رووینا نے ان کی طویل قید پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ‘مکتوب’ سے کہا تھا: “یہ واقعی خوفناک ہے کہ ایک یونیورسٹی پروفیسر بغیر کسی مقدمے کے، حتیٰ کہ چارج شیٹ کے مطابق بھی کسی مخصوص جرم کے بغیر، اتنے سالوں سے جیل میں ہیں۔ یہ کیس صرف ان کے کمپیوٹر میں پائے جانے والے دستاویزات پر مبنی ہے، جسے پولیس نے ان کی گرفتاری سے قبل بغیر کسی قانونی طریقہ کار پر عمل کیے چھاپے میں ضبط کر لیا تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا کسی بھی شخص کے ساتھ ہو سکتا ہے جو بڑے سماجی مفاد کے لیے کام کرتا ہے اور سرکاری پالیسی پر نہیں چلتا، اور اس کی شدید مذمت کی جانی چاہیے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2021 میں، ان کے خاندان اور وکلاء نے حکام پر سنگین الزامات عائد کیے تھے کہ آنکھوں میں شدید انفیکشن، درد اور بتدریج بینائی کم ہونے کی شکایت کے باوجود انہیں بروقت طبی امداد سے محروم رکھا گیا تھا۔ بمبئی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو اب ان کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔