مدھیہ پردیش: گوالیر میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے تصویر کو نذرآتش کرنے کا معاملہ، انل مشرا سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج

مدھیہ پردیش کے گوالیر میں دستور ساز ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے تصویر کو جلانے اور قابل اعتراض نعرے بازی کرنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں وکیل انیل مشرا سمیت سات افراد کے خلاف سائبر سیل تھانہ میں ایف.آئی.آر درج کی ہے۔ واقعے کے فوری بعد پولیس نے انیل مشرا اور چار دیگر ملزمان کو حراست میں لے لیا، جبکہ باقی ملوث افراد کی تحقیقات جاری ہیں۔

شکایت کنندہ مکرند بودھ نے بتایا کہ یہ واقعہ 1 جنوری کو دوپہر 1 سے 2 بجے کے درمیان سٹی سینٹر کے پاس، پٹیل نگر چوراہے کے قریب پیش آیا۔ الزام ہے کہ انیل مشرا کی قیادت میں “رکھشک مورچہ” نے بغیر اجازت جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل دیگر ملزمان نے بابا صاحب کے تصویر کو جلایا اور قابل اعتراض نعرے لگائے، جس سے عوامی امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا۔

واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہر میں شدید غصہ پھیل گیا۔ مختلف سماجی تنظیموں اور بہوجن گروپس نے اسے دستور اور دلت برادری کی توہین قرار دیا اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے ویڈیو فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

آزاد سماج پارٹی کے رہنما سنیل استے نے ٹویٹ میں کہا، “گوالیار میں بابا صاحب کے تصویر کو جلانا صرف دہشت گردی نہیں، بلکہ دستور پر حملہ ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے بروقت کارروائی نہ کی تو یہ “تاریخی تحریک” بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے این.ایس.اے کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دستور کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔

بہوجن تنظیموں نے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے واضح موقف اختیار کرنے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عوامی امن و امان کے خلاف اقدامات، سماجی انتشار پھیلانے اور آئی.ٹی ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ ڈیجیٹل فارنسک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

سنیل استے نے مزید کہا، “یہ کوئی ذاتی یا تنظیمی حرکت نہیں، بلکہ براہ راست دستور اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ بابا صاحب ہر شہری کے حقوق کی علامت ہیں اور ان کی توہین پورے سماج کی توہین ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی بروقت کارروائی نہ کرنے سے صورتحال خراب ہوئی۔ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی دستور اور اس کے بانی کی توہین کرنے کی ہمت نہ کرے۔”

اس معاملے نے گوالیر اور مدھیہ پردیش میں بہوجن سماج اور دستور کے حامی گروپوں میں گہری تشویش اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو