وسطی مشرق میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا تیسرا ہفتہ بھی تباہ کن جاری ہے۔ ایران کے ہمادان، تہران اور میناب شہر حملوں کے مرکزی مراکز بنے ہوئے ہیں، جہاں شہری، اسکول اور سائنسی ادارے شدید نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہمادان میں شدید تباہی
ہمادان سے موصول ہونے والی فوٹیج میں حملے کے فوراً بعد بھاری دھوئیں کے ستون آسمان کی جانب بلند ہوتے دکھائی دیے۔ مقامی لوگ خوف اور اضطراب میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں شہری علاقوں اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
تہران کی فضائی دفاعی سرگرمیاں
دارالحکومت تہران کے یوسف آباد علاقے میں حملوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام سرگرم رہا۔ یہ علاقہ بڑے یہودی کمیونٹی اور اہم عبادت گاہ کا گھر ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں فضائی دفاعی میزائل آسمان میں داغتے اور انٹرسپٹرز کو فائر کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ اب دارالحکومت کے شہری علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔
سینکڑوں بچوں کی ہلاکتیں
ایران کے وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 202 بچے شہید ہو چکے ہیں، جن میں 12 پانچ سال سے کم عمر کے تھے۔ وزارت نے بتایا کہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور 42,000 سے زائد شہری مقامات – گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں – کو نقصان پہنچا ہے۔
خاص طور پر میناب میں شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر میزائل حملے نے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں درج کیں۔ اس حملے میں تقریباً 170 افراد شہید ہوئے، جن میں بیشتر طلباء اور طالبات تھے۔ یہ واقعہ جنگ کی سب سے بڑی شہری ہلاکت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سائنسی مرکز بھی ہدف پر
مغربی تہران میں واقع ایرانی اسپیس ریسرچ سینٹر کو بھی حملوں میں شدید نقصان پہنچا۔ یہ مرکز ایران کا اہم سیٹلائٹ اور انٹیلی جنس میپنگ تحقیقی ادارہ ہے۔ یہاں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور عسکری نگرانی منصوبوں پر کام ہوتا تھا۔ حملے کے بعد سنٹر کی لیبارٹریاں اور تحقیقی عمارتیں شدید متاثر ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ایران کی سائنسی اور عسکری صلاحیت پر بڑا اثر پڑے گا۔
بین الاقوامی احتجاج
دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ واشنگٹن ڈی.سی. میں مظاہرین نے میناب اسکول حملے کا ڈرامائی طور پر اسٹیج پر مظاہرہ کر کے جنگ کی ہولناکی کو اجاگر کیا۔
عالمی اثرات
ان حملوں نے نہ صرف ایران کے شہریوں اور سائنسی مراکز کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور ہرمز تنگی میں جہاز رانی کو بھی متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ اب علاقائی نہیں بلکہ عالمی انسانی اور اقتصادی چیلنج بن چکا ہے۔
حکومتی ترجمان فاطمہ مهاجرانی نے کہا “حملوں نے ملک کے شہری ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بحالی کا کام مہینوں تک جاری رہے گا۔”
ماہرین کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ تنازعہ صرف عسکری ٹکراؤ نہیں بلکہ ایران کی شہری ساخت، سائنسی اور تعلیمی صلاحیت پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔