مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر وسیع پیمانے پر فوجی تصادم کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب محدود دائرے سے نکل کر ایک بڑے علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ الجزیرہ سمیت کئی بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، اس کشیدگی کے اثرات اسرائیل، لبنان، یمن اور خلیجی ممالک تک پھیل چکے ہیں۔
اسرائیل کے اندر گزشتہ رات حالات انتہائی کشیدہ رہے۔ حیفا، نہاریہ، جلیل اور عکہ جیسے علاقوں میں مسلسل سائرن بجتے رہے اور کئی مقامات پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی رپورٹس کے مطابق شہریوں کو آدھی رات کے دوران تقریباً 18 بار بنکروں میں پناہ لینا پڑی۔ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو فوجی افسران اور سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران پہلی بار یمن سے اسرائیل کی جانب حملہ کیا گیا، جو تنازع کے بڑھتے دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تنازع کا اثر اب خلیجی خطے میں بھی واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر حملے کی خبر سامنے آئی ہے، جس میں تقریباً 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسی طرح ابو ظہبی میں بھی حملے کے نتیجے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب ایران پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں بعض واقعات نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک حملے میں رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ مزید برآں، ایران کی ایک اہم صنعتی تنصیب کو نشانہ بنانے کے معاملے کو تہران عالمی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس پورے بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جو عالمی تیل کی فراہمی کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث یہاں جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے، اور رپورٹس کے مطابق ایران کی اجازت کے بغیر جہازوں کا محفوظ گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر عالمی تیل مارکیٹ، سپلائی چین اور کئی ممالک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر چین اور روس کے کردار پر بھی بحث جاری ہے۔ اگرچہ یہ ممالک براہِ راست فوجی مداخلت سے دور نظر آ رہے ہیں، تاہم سفارتی اور تزویراتی سطح پر ان کی ممکنہ شمولیت کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس دوران خلیجی اور دیگر عرب ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے اپنی سلامتی اور استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں یہی حکمتِ عملی ان کے لیے سب سے زیادہ عملی ہے۔
مجموعی طور پر، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتا ہوا یہ تنازع اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی امن، توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سفارتی کوششیں اس بحران کو کم کر پاتی ہیں یا دنیا ایک اور بڑے جنگی تصادم کی طرف بڑھتی ہے۔