خلیجی جنگ: ہرمز کے سلسلے میں ٹرمپ کی ‘سمندری راستہ بچاؤ’ اپیل پر دنیا خاموش، بین الاقوامی بحری تعاون کے لیے ٹرمپ کی کوششیں ناکام، جاپان اور آسٹریلیا کا بھی جنگی جہاز بھیجنے سے انکار، امریکہ نے چین سے بھی تعاون مانگنا شروع کر دیا

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے دنیا کے سب سے اہم سمندری راستے ہرمز کی پٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ راستہ عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا ذمہ دار ہے اور اس کے بند ہونے سے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ٹرمپ کی اپیل، دنیا کی خاموشی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات ممالک – چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر – سے مل کر ایک بحری قافلہ بنانے کی اپیل کی تاکہ ہرمز کو کسی بھی ملک کی جانب سے بلاک نہ کیا جائے اور یہ راستہ “کھلا اور محفوظ” رہے۔

لیکن صدر ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے صاف کہا کہ وہ جنگی جہاز نہیں بھیجیں گے۔ آسٹریلیا کی وزیر کیتھرین کنگ نے کہا کہ ان کا ملک اس تنازعے میں شامل نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین سے مدد کی ضرورت نہیں اور انہوں نے زوِلنسکی کی پیشکش مسترد کر دی۔

چین اور امریکہ کی بات چیت

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ وہ چین سمیت بعض ممالک کے ساتھ بات چیت میں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ چین ایک معاون اور مثبت کردار ادا کرے گا۔ چین نے بھی کہا کہ توانائی کی ترسیل کو مستحکم اور بغیر رکاوٹ برقرار رکھنا تمام فریقین کی ذمہ داری ہے۔

ایران کا موقف

ایران نے واضح کیا ہے کہ ہرمز کی پٹی سب کے لیے کھلی ہے، لیکن امریکہ اور اس کے حلیفوں کے لیے راستہ محدود ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے محفوظ راستے کے لیے رابطہ کیا ہے، لیکن فیصلہ ایرانی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

ایران کے ریولوشنری گارڈز کے بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے ٹرمپ کو چیلنج کیا کہ اگر ان کا دعویٰ درست ہے کہ ایران کی نیوی تباہ ہو گئی ہے، تو وہ خلیج میں جہاز بھیج کر دکھائیں۔

یورپ کا رویہ

فرانس نے کہا کہ وہ بین الاقوامی مشن پر غور کر رہا ہے، لیکن “مناسب حالات ہونے پر” ہی کوئی کارروائی کرے گا۔ جرمنی نے منصوبے پر شبہ ظاہر کیا اور اٹلی نے بھی واضح کیا کہ وہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔

بھارت کی سفارتی کوششیں

بھارت نے سفارتی راستہ اپنایا۔ وزیر خارجہ ایس. جے شنکر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے بعد دو بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ مل گیا۔ جے شنکر نے کہا کہ حل بات چیت اور ہم آہنگی سے نکلے گا، اور بھارت نے کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کی۔

اقتصادی اور عالمی اثرات

اب تک کم از کم 10 تیل کے ٹینکروں پر حملے یا نقصان ہوئے ہیں اور تقریباً 1,000 ٹینکر ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تیل کی قیمتیں تقریباً $100 فی بیرل پر برقرار ہیں۔ ایران صرف امریکہ اور اس کے حلیفوں کے لیے تیل کی ترسیل روکے ہوئے ہے، جبکہ چین کو تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری ہے۔

مشرق وسطیٰ کا یہ تنازعہ اب عالمی توانائی، سمندری سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے۔ ٹرمپ کی اپیل کو کوئی حمایت نہ ملنے اور کئی ممالک کے انکار کے باعث یہ واضح ہو گیا ہے کہ دنیا جنگ کے خطرے سے بچتے ہوئے سفارتی حل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہرمز کی پٹی صرف ایک سمندری راستہ نہیں رہی بلکہ عالمی توانائی اور بین الاقوامی سیاست کا مرکز بن گئی ہے۔

خلیجی جنگ: ایران کی تین سخت شرائط پر ٹکی سیز فائر، ٹرمپ نے مذاکرات ٹھکرائے! پاکستان‑سعودی عرب بھی امن کوششوں میں سرگرم

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ‑اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ عالمی اور علاقائی سیاست کو