مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ ملک کے سینئر سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی اور ’بسیج‘ فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق ایران نے کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ان دونوں رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے ایک سرکاری بیان میں لاریجانی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “شہادت” قرار دیا۔ دوسری جانب اسلامک ریولوشنری گارڈ کور نے بھی سلیمانی کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ہلاکت کو ایران کے سکیورٹی ڈھانچے کے لیے بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔
علی لاریجانی ایران کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ رہے ہیں۔ وہ ماضی میں پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے تھے اور مغربی ممالک کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے تھے۔ حالیہ عرصے میں وہ ملک کی سکیورٹی پالیسی سازی میں کلیدی عہدے پر فائز تھے۔ دوسری جانب غلام رضا سلیمانی ’بسیج‘ تنظیم کی قیادت کر رہے تھے، جو داخلی سلامتی اور عوامی تنظیم کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اشارہ دیا ہے کہ اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے علامتی اور نفسیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں، تاہم اس سے فوری طور پر اقتدار میں تبدیلی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حکمت عملی میں ایک رہنما کے ہٹنے پر دوسرا سامنے آ جاتا ہے، جس سے جنگ کے مجموعی رخ پر فوری اثر نہیں پڑتا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں میں تیزی آئی ہے، جس سے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں شدت آ سکتی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایران آئندہ کیا قدم اٹھاتا ہے۔