انصاف ٹائمس ڈیسک
غازی آباد کے مودی نگر کے کدوائی نگر، آدرش کالونی اور ملک نگر میں لگے “آئی لو محمد” پوسٹر تنازعہ کا باعث بن گئے۔ اتوار کے روز بجرنگ دل کے کارکنان نے ان پوسٹروں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں “فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے کی سازش” قرار دیا اور پولیس انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بجرنگ دل کے رہنما مدھور نیہرا نے اے سی پی امیت سکسینہ سے ملاقات کر کے خبردار کیا کہ اگر پولیس نے فوراً پوسٹر نہیں ہٹائے تو وہ خود کارروائی کریں گے۔ دباؤ کے تحت پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور تمام پوسٹر ہٹا دیے۔ مقامی لوگوں نے اس ساری کارروائی کو خاموشی سے دیکھا۔
مودی نگر کے رہائشی عرفان ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہم نے صرف پیغمبر محمدؐ سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ اس میں جرم کہاں ہے؟ ہندو دیوی دیوتاؤں اور سیاسی رہنماؤں کے پوسٹر بغیر اجازت ہر جگہ لگائے جاتے ہیں، لیکن کارروائی صرف مسلمانوں پر ہی ہوتی ہے۔”
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر بغیر اجازت لگائے گئے تھے اور حال ہی میں بریلی اور کانپور جیسے شہروں میں پیدا ہونے والے تنازعات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطاً یہ قدم اٹھایا گیا۔ اے سی پی امیت سکسیہ نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی بجرنگ دل کے دباؤ میں نہیں بلکہ “عوامی نظم و ضبط قائم رکھنے” کے لیے کی گئی۔
اس واقعے نے شہر میں پولیس پر چنندہ کارروائی اور امتیازی رویّے کے الزامات کو مزید ہوا دے دی ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ان کا مذہبی عشق اور اظہارِ رائے کا حق ہے، جب کہ ہندو تنظیموں نے اسے “اشتعال انگیزی کی کوشش” قرار دیا ہے۔
فی الحال معاملہ پُرسکون ہے، لیکن غازی آباد میں مذہبی پوسٹروں کو لے کر دوہری پالیسی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔