ملک کی تین ریاستوں میں سامنے آنے والے بین المذاہب شادی کے معاملات نے سماجی اور قانونی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔ مرادآباد (اتر پردیش)، اجمیر (راجستھان) اور مظفرپور (بہار) میں پیش آئے واقعات میں مسلم خواتین کی جانب سے ہندو مردوں سے شادی یا ساتھ رہنے کے فیصلوں کے بعد خاندانی مخالفت اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
اتر پردیش کے ضلع مرادآباد کے علاقے بلاری کے ایک گاؤں میں 23 سالہ مسلم خاتون رمضان کے دوران گھر سے نکل کر اپنے 25 سالہ ہندو ساتھی کے ساتھ چلی گئی۔ دونوں نے مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کر لی۔ شادی کے بعد جوڑا ضلع کے اعلیٰ پولیس افسر کے سامنے پیش ہوا اور اہلِ خانہ کی جانب سے ممکنہ خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
پولیس حکام نے متعلقہ تھانہ انچارج کو معاملے کی جانچ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ دونوں کئی برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور اہلِ خانہ کی عدم رضامندی کے باوجود شادی کا فیصلہ کیا۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔
راجستھان کے اجمیر میں ایک ہندو لڑکی کے مسلم نوجوان سے تعلقات پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ بابوگڑھ علاقے کی رہائشی لڑکی گھر سے چلی گئی تھی اور بعد ازاں نوجوان کے مکان پر پائی گئی۔ لڑکی نے پولیس کے سامنے بیان دیا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے جس سے کشیدگی بڑھ گئی۔ اسی دوران لڑکی کے والد نے مبینہ طور پر خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی، تاہم پولیس اور مقامی افراد نے انہیں روک لیا۔ بعض مقامات پر توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے بیان کو قانونی اہمیت دی جائے گی اور متعلقہ دستاویزات و الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے قانون و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر بہار کے ضلع مظفرپور کے اورائی پرکھنڈ میں ایک مسلم خاتون معلمہ کی جانب سے اپنے ہی اسکول کے شادی شدہ ہندو استاد سے نکاح کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ خاتون نے ایک پیغام جاری کر کے کہا کہ اس نے قبل ازیں شادی کر لی تھی اور وہ محفوظ ہے۔
معاملے میں مذکورہ استاد کے پہلے سے شادی شدہ ہونے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ اگر پہلی شادی قانونی طور پر برقرار ہے تو بغیر قانونی طلاق دوسری شادی کرنا ہندو شادی قانون 1955ء کی دفعات کے تحت قابلِ تعزیر ہو سکتا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر اس معاملے پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔