ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام۔ (امانت اللہ خان کے خلاف مقدمہ درج۔)

🖋️: امام علی مقصود فلاحی۔متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔ہندوستان ایک ملک ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام‌ ہے جسے ہم ہم گنگا جمنی تہذیب کا نام دیتے ہیں، جس تہذیب کی مثال صرف ہم ہی نہیں بلکہ پوری دنیا دیتی ہے، اور خاص طور سے وہ ملک جو جمہوریت کا نام لیوا ہے اور ہر وہ قوم جو سیکولر ازم کا درس دیتی ہے وہ بھی اس‌ ہندوستان کو اور اس گنگا جمنی تہذیب کو وقتاً فوقتاً اپنی مثالوں میں لایا کرتی ہے۔کیونکہ یہ وہ ملک ہے جو مختلف مذاہب و مختلف اقوام پر منحصر ہے، یہ وہ ملک ہے جس کی بنیاد ہی جمہوریت کے نام پر ہے، یہ وہ ملک ہے جس کی بنیاد ہی سیکولر ازم پر ہے، یہ وہ ملک ہے جہاں ہر قوم کے لوگ بستے ہیں، یہ وہ ملک ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں، یہ وہ ملک ہے جسکا آئین بھی بے مثال ہے،‌یہ وہ ملک ہے جسکا آئین بھی محبت کا درس دیتا ہے، یہ وہ ملک ہے جسکا آئین بھی دوسرے مذاہب کو عزت کی‌ نگاہوں سے دیکھنے کا سبق سکھاتا ہے۔لیکن افسوس صد افسوس آج اس ملک ہندوستان کو سیکولر ازم کے لبادہ سے ننگا کردیا گیا، اسکے سیکولر ازم کے چادر کو تار تار کردیا گیا۔اور یہ ملک پکارتا رہا کہ مجھے بچاؤ، میرے بنیاد کو ڈھایا جارہا ہے، میری تہذیب سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، میرے دستور کو بے نور کیا جارہا ہے، اسکی سطروں کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ارے ہے کوئی ؟ جو گاندھی کا رول ادا کرکے میری عزت پر پردہ ڈال سکے، ہے کوئی؟ جو ابوالکلام آزاد جیسا صحافت اختیار کرکے اس‌ جمہوریت کو بچا سکے، ہے کوئی؟ جو امبیڈکر کی جگہ لیکر دستور کو بے نور سے نکال سکے۔بیچارہ یہ ملک پکارتا رہا، اپنے حفاظت ناموس کی گوہار لگاتا رہا، پر کوئی بھی امبیڈکر و ابوالکلام جیسا مرد آگے نہ بڑھ سکا۔پھر کیا ہوا کچھ ایسے لوگ اس‌ ملک کے باگ ڈور کو سنبھالنے کی خدمات میں آگے بڑھے جو اسکے نا اہل تھے، جو جمہوریت کے لفظ سے بھی ناآشنا تھے، جو سیکولر ازم کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ یہی وجہ رہی کہ آج جمہوریت کا نام‌ و نشان باقی نہ رہا، سیکولر ازم کی دھجیا اڑا کر رکھ دیا، ملک کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا، ظالموں کو سربراہی کا تاج پہنا دیا، مظلوموں کو ظلم کی گھاٹیوں میں پہنچا دیا، نا انصافی کو عروج و سربلندی کا سرٹیفکیٹ دے دیا، عدل و مساوات کا نظام کمزور کر دیا۔ایک زمانہ تھا کہ لوگ اس ملک سے انصافی کی امید رکھتے تھے، نا انصافی کا نام و نشاں نہیں تھا، جب بھی کوئی بات ہوتی تھی تو عوام عدالت کو دروازہ کھٹکھٹاتی تھی، جب بھی کوئی زیادتی ہوتی تھی تو حکومت کا سہارا لیتی تھی، اور حکومت سے اس بات کی کامل امید ہوتی تھی کہ وہ انصاف دلا کر رہے گی، ظالم‌کو سزا دے کر رہے گی، مظلوم کی حمایت کر کے رہے گی، سیکولر ازم کو بچا کر رہے گی، اس ملک کی تہذیب کو دکھا کر رہے گی، گنگا جمنی تہذیب کا آئنہ بن کر رہے گی۔لیکن آج معاملہ بالکل بر عکس نظر آرہا ہے، آج اگر کوئی انصاف کی مانگ کرتا ہے تو اسے بے شمار دھمکیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے، آج اگر کوئی ظلم کے خلاف بولتا ہے تو اسکی زبان کو کاٹ لیا جاتا ہے، آج اگر کوئی مظلوم کی مدد کرتا ہے تو اسکا ہاتھ توڑ دیا جاتا ہے، آج اگر کوئی انصاف کی گوہار لگاتا ہے تو اسے سلاخوں کے آڑ ڈال دیا جاتا ہے۔اسکے برعکس ظالموں کا ساتھ دیا جاتا ہے، انکا دامن تھام لیا جاتا ہے، انکے قدموں کو چوم لیا جاتا ہے، انکی باتوں کو تصدیق کیا جاتا ہے۔یہی وجہ رہی کہ حال ہی میں ایک ملعون شخص سنت سادھو کا لبادہ اوڑھ کر اور ماتھے پر ٹیکہ لگاکر، ہندو مسلم کے درمیان تشدد کا راستہ ہموار کرنے میں ہمہ تن مصروف ہے، یکے بعد دیگرے اسلام کے خلاف بولے جا رہا ہے، کبھی اسلام کو جہاد کا پیکر بتاتا ہے تو کبھی اسلام کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کرتا ہے، کبھی مسلم سورماؤں کو نشانہ بناتا ہے تو کبھی پیغمبر اسلام کو برا بھلا کہتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ اسکی پیچھے حکومت بھی دکھائی دے رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ گذشتہ دن اس ملعون شخص نے جسکا نام‌ نرسنگھا نند سرسوتی بتایا جارہا ہے، جس پریس کلب میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کے الفاظ جھونکے جارہا ہے وہ پریس کلب بھی سرکا کے تحت ہے، اور یہ بات بھی واضح ہے کہ جب وہ پریس کلب سرکار کے انڈر میں ہے تو پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی اجازت کے بغیر اس میں کوئی بیان نہیں دے سکتا، اس پریس کانفرنس میں اس ملعون شخص کا بیان جاری کرنا اس بات کی جانب بھی مشیر ہے کہ اسکے پیچھے تخت نشینوں کا بھی ہاتھ ہے،وہ اپنے مفاد کے خاطر اسکا بیجا استعمال کر رہے ہیں، ہندو مسلم کے مابین عداوت و عناد کی دعوت دے رہے ہیں۔بہر حال! جب اس ملعون شخص نے گستاخی رسول کو اپنا مشن بنا لیا اور اسلام اور پیغمبر اسلام کو نشانہ بنا لیا اور مسلسل ایک قوم و ملت کو ٹھیس پہنچانے لگا۔ تو حکومت کا یہ فریضہ بنتا تھا کہ ایسے شخص کو جلد از جلد ٹھیک کیا جائے، اسکی جو سزا ہو اسے سزا دے کر اسے ہر ایسے عمل سے باز رکھا جائے جو ملک کی سالمیت میں پھوٹ پیدا کرتی ہیں، ہر ایسے کام سے دور رکھا جائے جو ملک کی تباہی کا سبب بنتی ہیں، ہر ایسے فعل سے منع کیا جاے جو ملک کے سیکولر ازم میں خلل پیدا کرتی ہیں۔یہ کام تو حکومت کا تھا، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا اور وہ ملعون شخص مسلسل اسلام اور اہل اسلام کو نشانہ بناتا رہا۔لیکن جب ایک شخص سے رہا نہ گیا تو وہ کھڑا ہوا اور اسکے خلاف آواز اٹھائ، اسکے خلاف مقدمہ درج کیا، اور حکومت سے اس بات کی مانگ کی کہ وہ اس ملعون شخص کو سیدھا راستہ دکھائے، اور اس کی جو سزا ہو اسے دی جائے تاکہ ملک کی سالمیت برقرار رہ سکے۔ لیکن میں نے کہا نا! کہ اس ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اسکے اھل بھی نہیں ہیں، جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو بھی پکڑ لیا جاتا ہے، انصاف کی مانگ کرنے والوں کو بھی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔وہی ہوا جب ایک شخص جسکا نام امانت اللہ خان بتایا جارہا ہے جب وہ انصاف علم لیکر کھڑا ہوا تو اسی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، اسی کو پکڑنے کا دعویٰ کر لیا گیا، اسی کو ظلم و تشدد کا داعی ٹھہرا دیا گیا، اسی پر الزام لگا‌دیا گیا کہ وہ تشدد پھیلا رہا ہے، ملک کی سالمیت کو تباہی کے دہانے پر لے جارہا ہے۔قارئین ! یہ ملک کے سانحات ہیں جسے دیکھ کر اور جسے سن کر اکبر الہ آبادی کا وہ شعر یاد آتا ہے:ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام،وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔وہ ملعون شخص لگاتار ملک کی سالمیت کو تباہی کے آگ میں جھونک رہا تھا لیکن اسکے خلاف کچھ نہیں کہا جارہا تھا۔لیکن جب امانت اللہ خان انصاف کی مانگ کے لئے کھڑا ہوتا ہے، اور اپنے بیان میں وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ ایسے ملعون شخص کا انجام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتا ہو قتل ہے، کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر اسلامی ملک میں کوئی شخص گستاخی رسول کرتا ہے تو اسکا انجام برا ہوتا ہے، اسکا سر قلم کر دیا جاتا ہے، اتنا کہنا تھا کہ اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ نرسنگھا نند سرسوتی کئی دنوں سے اسلام کو بدنام کر رہا تھا، اسے جہاد کا علمبردار کہہ رہا تھا، مسلمانوں کو جہادی کہہ رہا تھا، یہاں تک کہ اے پی جے ابوالکلام کو بھی جہادی کہہ دیا، لیکن اسے کچھ نہیں کہا گیا، حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔لیکن امانت اللہ خان کو ایک ہی بیان پر دھمکی مل گئی، جبکہ وہ بیان بھی اسلامی نظریہ کے مطابق تھا اور اس ملک میں اسلامی شریعت نافذ بھی نہیں ہے، اس ملک کا قانون بابا امبیڈکر کے دئیے ہوئے دستور کے مطابق چلتا ہے۔ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام،وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو