انصاف ٹائمس ڈیسک
بھاکپا (مالے) کے جنرل سکریٹری کامریڈ دیپانکر بھٹاچاریہ نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن اپنی پیٹھ تھپتھپانے میں تو ماہر ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا کیا مطلب ہے؟
انہوں نے کہا کہ بھاکپا (مالے) سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ایس آئی آر (SIR) کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور اس عمل کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ “ایسے میں الیکشن کمیشن کا یہ کہنا کہ تمام پارٹیوں نے ایس آئی آر کی تعریف کی اور اسے مبارکباد دی، سراسر جھوٹ ہے،”
بھٹاچاریہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز پٹنہ میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ہوئی ملاقات میں مالے کے وفد نے کمیشن کو اس کی لاپروائیوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ “اس کے باوجود کمیشن نے ایک گمراہ کن بیان جاری کیا،”
بھاکپا (مالے) نے پٹنہ میں الیکشن کمیشن کو دیے گئے یادداشت میں ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں سے متعلق کئی سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ڈرافٹ لسٹ میں 65 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے تھے، اور فائنل لسٹ میں مزید 3 لاکھ 66 ہزار نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر نام کس بنیاد پر حذف کیے گئے اور اس کی تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی گئیں۔
مالے نے مطالبہ کیا ہے کہ حذف شدہ ووٹروں کی بوتھ وار فہرست اور وجوہات کے ساتھ مکمل تفصیل فوری طور پر جاری کی جائے۔
پارٹی نے ایس آئی آر کی فہرست میں خواتین ووٹروں کی تعداد میں کمی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ بہار کی مردم شماری کے مطابق مرد و خواتین کا تناسب 914 ہے، جب کہ ایس آئی آر میں یہ گھٹ کر 892 بتایا جا رہا ہے۔ مالے نے کمیشن سے پوچھا ہے کہ یہ کمی کیوں ہوئی اور اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟
یادداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اخبارات کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 ہزار افراد کی شہریت کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے نام اور ان کی شہریت مشکوک قرار دینے کی وجوہات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
مالے نے کہا ہے کہ کثیر المراحل انتخابی عمل “مہنگا اور تھکا دینے والا” ہوتا ہے، خصوصاً چھوٹی پارٹیوں کے لیے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بہار اسمبلی انتخابات صرف دو مرحلوں میں مکمل کرائے جائیں۔
بھاکپا (مالے) نے الزام لگایا ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع میں سینئر افسروں کو نظر انداز کر کے جونیئر افسروں کو نگران (Parading Officer) بنایا جا رہا ہے۔ بھوجپور ضلع سے ملی اطلاعات کے مطابق دلت، مسلم اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افسران کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کمیشن سے اس معاملے کی فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مالے نے کہا کہ پولنگ ایجنٹوں کو ووٹنگ کے دن فارم 17C نہیں دیا جاتا، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔ پارٹی نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فارم کی فراہمی کو ہر بوتھ پر یقینی بنایا جائے۔
مالے نے یہ بھی کہا کہ بوتھوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود دلت اور مسلم بستیوں میں ووٹنگ مراکز نہیں بنائے جا رہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ کمزور طبقات کی آبادیوں میں بوتھ قائم کیے جائیں اور ضرورت پڑنے پر چلنت بوتھ (Mobile Booths) کی بھی سہولت دی جائے۔
بھاکپا (مالے) نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ان تمام سوالات اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہ سکے۔