سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے اقتصادی سروے میں بھارتی معیشت کو عالمی غیر یقینی حالات کے درمیان “مضبوط اور لچکدار” قرار دیے جانے کے دعوے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اور اندازوں میں نظر آنے والی مضبوطی عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں دکھائی نہیں دیتی۔
پارٹی نے کہا کہ صرف کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل کو کامیابی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، جب ملک میں بے روزگاری، مہنگائی، گھٹتی آمدن اور بڑھتا ہوا گھریلو قرض مسلسل عوام کو متاثر کر رہا ہو۔ پارٹی کے مطابق مزدوروں، کسانوں، اقلیتوں اور غیر منظم شعبے سے وابستہ افراد کے لیے معاشی حالات اب بھی تشویشناک ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اگر عام شہری مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے نبرد آزما ہے تو معاشی اشاریوں پر مبنی خوش فہمی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
اقتصادی سروے میں نجی شعبے کو ترقی کے اگلے مرحلے کی بنیاد قرار دیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پارٹی نے اسے حکومت کی معاشی سوچ پر سنگین سوالات کھڑے کرنے والا قدم بتایا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ برسوں سے ٹیکس میں چھوٹ، پالیسی مراعات اور مختلف ترغیبات دیے جانے کے باوجود اب پوری ذمہ داری نجی شعبے پر ڈالنا تشویش ناک ہے۔ پارٹی کے مطابق ترقی کو صرف کارپوریٹ خیر سگالی کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا، جبکہ عوامی فلاح اور سماجی تحفظ کو کمزور کیا جا رہا ہو۔
پارٹی نے روپے پر برقرار دباؤ کے بارے میں بھی خبردار کیا اور کہا کہ اس کا براہ راست اثر ایندھن کی قیمتوں اور ضروری اشیاء کی لاگت پر پڑے گا، جس سے عام گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاشی پالیسیوں میں فوری اصلاح کرے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو مضبوط تعاون دینے، عوامی سرمایہ کاری بڑھانے، مہنگائی پر قابو پانے اور جامع سماجی تحفظ کو ترجیح دے۔
پارٹی کے قومی قائم مقام صدر محمد شفیع نے کہا کہ معیشت کی حقیقی مضبوطی معاشی انصاف میں ہے، نہ کہ کارپوریٹ پر مبنی ترقی کے بیانیوں میں۔