مغربی اتر پردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ کی مستقل بینچ کے دیرینہ مطالبے کو لے کر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے پیر کے روز ریاست گیر سطح پر ایک منظم اور پرامن پروگرام منعقد کیا۔ اس دوران اتر پردیش کے متعدد اضلاع میں ضلع مجسٹریٹس کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام یادداشتیں پیش کی گئیں۔
ایس ڈی پی آئی اتر پردیش کے ریاستی دفتر سے جاری بیان کے مطابق، 22 دسمبر 2025 کو ہاپوڑ، میرٹھ، شاملی، سہارنپور، غازی آباد، کیرانہ، لکھنؤ، اعظم گڑھ، وارانسی اور بہرائچ سمیت مختلف اضلاع میں پارٹی کی ضلعی اور اسمبلی اکائیوں نے اس مطالبے کے حق میں یادداشتیں ارسال کیں۔
پارٹی نے اپنی یادداشت میں کہا ہے کہ مغربی اتر پردیش کے کروڑوں عوام کو آج بھی انصاف کے لیے 600 سے 800 کلومیٹر دور پریاگ راج واقع الہ آباد ہائی کورٹ کی مرکزی بینچ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو آئین میں دیے گئے مساوی، سہل اور فوری انصاف کے حق کے منافی ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ میں درج ہونے والے مقدمات کا بڑا حصہ مغربی اتر پردیش سے متعلق ہے۔ اراضی تنازعات، فوجداری، محنت کشوں، صنعتی اور سروس سے وابستہ معاملات کی کثرت کے باوجود اس خطے میں مستقل بینچ کا نہ ہونا عام عوام کے لیے مشکلات کا سبب ہے، جبکہ اس سے پریاگ راج کی مرکزی بینچ پر مقدمات کا بوجھ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی اتر پردیش کے ریاستی صدر ڈاکٹر نظام الدین خان نے کہا کہ مغربی اتر پردیش میں ہائی کورٹ کی مستقل بینچ کا مطالبہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کے آئینی حقِ انصاف سے جڑا ہوا سوال ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس تحریک کی آئندہ حکمتِ عملی جلد اعلان کی جائے گی اور اس مسئلے پر ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایس ڈی پی آئی اتر پردیش نے صدرِ جمہوریہ سے اپیل کی ہے کہ مغربی اتر پردیش کے عوام کے اس دیرینہ، منصفانہ اور آئینی مطالبے پر سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ کی مستقل بینچ کے قیام کے لیے ضروری ہدایات جلد جاری کی جائیں۔
پارٹی نے واضح کیا کہ جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا، ایس ڈی پی آئی جمہوری اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس عوامی تحریک کو منظم انداز میں مسلسل آگے بڑھاتی رہے گی۔