دلّی یونیورسٹی کی طالبہ چیترا راجپوت کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ویڈیو میں طالبہ نے اپنے شعبے کے پروفیسر اور سربراہ شعبہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن سے یونیورسٹی انتظامیہ کی کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ویڈیو تقریباً 2 منٹ 31 سیکنڈ طویل ہے۔ اس میں چیترا روتے ہوئے کہتی ہیں کہ چند دن قبل انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پروفیسر کے خلاف نامناسب رویے کا الزام لگاتے ہوئے ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اس کے بعد، ان کا کہنا ہے، شعبہ کے سربراہ نے انہیں اپنے دفتر میں بلایا اور ریلز ہٹانے کا دباؤ ڈالتے ہوئے دھمکی دی: “آپ جو ریلز پوسٹ کر چکی ہیں، انہیں ہٹا دو، ورنہ ہم آپ کے لیے بہت کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔”
طالبہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں ایڈمٹ کارڈ تک نہیں دیا گیا، اور کچھ ہم جماعتوں نے شعبہ سربراہ کے پاس جا کر کہا کہ “پروفیسر درست ہیں، میں غلط ہوں۔” چیترا نے کہا کہ یہ طلبہ اپنے انٹرنل اسائنمنٹس کے 40 نمبر حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں وہ جذباتی انداز میں بتاتی ہیں کہ جب شعبہ سربراہ نے انہیں دوبارہ پروفیسر کے کمرے میں جا کر بات کرنے کو کہا، تو انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر یہاں داخلہ حاصل کر چکی ہیں اور کسی کے کمرے جا کر بھیگ نہیں مانگیں گی۔
اس کے علاوہ طالبہ نے الزام لگایا کہ “پروفیسر اور یونیورسٹی کا نظام ‘غنڈوں’ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے” اور کہ “پروفیسر طے کرتے ہیں کہ طلبہ کو نمبر کتنے وقت تک ان کے کمرے میں بیٹھ کر ملتے ہیں۔”
سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور لوگ یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے طالبہ کی حفاظت اور مستقبل کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ کچھ نے سوال اٹھایا کہ آیا یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی کارروائی کرے گی۔ فی الحال دلّی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب، اکھیل بھارتی ویدیارتی پریشد نے اس معاملے پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ الزامات کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے، اور طلبہ کی حفاظت و عزت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جیسے جیسے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے، یہ تنازعہ دلّی یونیورسٹی کے داخلی شکایات کے ازالہ نظام، استاد و طالب علم تعلقات اور تعلیمی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔