دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز سیو انڈیا فاؤنڈیشن کو سخت تنبیہ کی ہے، جس نے دارالحکومت میں مساجد اور درگاہوں پر مبینہ تجاوزات کے حوالے سے بار بار عوامی مفاد کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے باقاعدہ درخواستیں دائر کرنا عدالتی نظام کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور صرف ایک مخصوص مذہبی عمارت کو نشانہ بنانا شدید تشویش کا سبب ہے۔
چیف جسٹس دیوندرا کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی بینچ نے این جی او اور اس کے وکیل امیش چندر شرما کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا، “آپ ہر ہفتے شہر کے مختلف حصوں میں گھوم کر کسی نہ کسی مذہبی عمارت کے خلاف درخواست دائر کرتے ہیں۔” عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اس تنظیم کا مقصد شہرت حاصل کرنا ہے، بجائے اس کے کہ وہ سماجی مسائل جیسے صاف پانی کی کمی اور بھوک پر توجہ دے۔
سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بدھ کو درج دو درخواستوں میں سے ایک جامعہ مسجد اور مدرسہ گیری نگر سے متعلق تھی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ عمارت سرکاری زمین پر قبضہ کر چکی ہے۔ این جی او کے وکیل نے کہا کہ پہلے بھی شکایات درج کی گئی تھیں، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
دہلی حکومت کی طرف سے پیش وکیل سمیئر وشیشتھ نے کہا کہ مقامی حکام کے مطابق یہ واقعی ایک تجاوزات کا معاملہ ہے۔ دوسری جانب، سینئر وکیل سنیوز گھوش نے دہلی وقف بورڈ کی نمائندگی میں کہا کہ مسجد ایک نوٹیفائی شدہ عمارت ہے اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی زمین کی حد بندی میں شامل رہی۔
عدالت نے این جی او کے درخواستیں دائر کرنے کے طریقہ کار پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ایسی درخواستیں عدالتی کارروائی پر اثر ڈالتی ہیں۔ عدالت نے اس معاملے کی دوبارہ سماعت اکیس جنوری کے لیے مقرر کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کی درخواستیں صرف اسی صورت میں قابل قبول ہیں جب وہ حقیقی عوامی مفاد کو مدنظر رکھیں، نہ کہ کسی مخصوص کمیونٹی یا عمارت کے خلاف بار بار یکطرفہ مہم چلانے کے لیے۔