امریکہ کی جانب سے رات کے اندھیرے میں وینیزویلا پر مبینہ حملے اور وہاں کے منتخب صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے اغوا کے خلاف پٹنہ میں زوردار احتجاج کیا گیا۔
بھارت کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) پٹنہ ضلع کمیٹی نے پٹنہ جنکشن گولمبر کے قریب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پتلا نذر آتش کیا۔ پارٹی نے اس حملے کو “سامراجی فوجی طاقت کی بربریت اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
پروگرام میں وینیزویلا کی عوامی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بھارت کی حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ امریکہ کی اس کارروائی کی سخت مذمت کرے اور وینیزویلا کے حق میں آواز بلند کرے۔
اس موقع پر سی پی ایم کے مرکزی کمیٹی کے رکن اوادھیش کمار، ریاستی سیکرٹری مڈل کے رکن منوج چندروَنشی، سینئر رہنما ارون مشرا، ضلع سیکرٹری شیو کُو وِدھیارتی، مقامی سیکرٹری ترلوکی پانڈے، ضلع سیکرٹری مڈل کے رکن سَرِیتا پانڈے، سُجیت کمار، کُل بھوشن، اومیش رائے، راجیورنجن، دیپک، کیشور اور رمنارائن سمیت دیگر رہنما اور کارکن موجود تھے۔
سی پی ایم کے رہنما منوج چندروَنشی نے کہا، “ہم امریکہ کی دھمکی آمیز کارروائی کے خلاف کھڑے ہیں اور وینیزویلا کی عوامی جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بھارت کی حکومت اس معاملے میں مناسب قدم اٹھائے گی۔”