کرسمس پر اسکول کھولنے کا حکم، اتر پردیش میں واجپئی کی یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات لازمی

اتر پردیش حکومت کے ایک تازہ حکم نے ریاست میں تعلیم، سیکولرازم اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ محکمۂ بنیادی تعلیم نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 دسمبر 2025 کو کرسمس کی چھٹی نہیں ہوگی اور ریاست کے تمام سرکاری پرائمری اور اعلیٰ پرائمری اسکول کھلے رہیں گے۔ اس دن سابق وزیرِ اعظم اور بی جے پی کے شریک بانی اٹل بہاری واجپئی کی یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ حکم نامے کے مطابق طلبہ کی حاضری لازمی ہوگی۔

محکمہ جاتی احکامات میں اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ واجپئی کی زندگی اور خدمات پر تقاریر، ثقافتی پروگرام، مشاعرہ، شاعری اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کیے جائیں۔ یہ فیصلہ دہائیوں سے چلی آ رہی کرسمس کی روایتی تعطیل کو ختم کرتا ہے۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ سہارنپور ضلع میں بجرنگ دل کے رہنماؤں کی جانب سے کی گئی مانگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ تنظیم کے سابق صوبائی کنوینر وکاس تیاگی اور سابق ضلع صدر کپل موہڑا کی قیادت میں دیے گئے میمورنڈم میں 25 دسمبر کو کرسمس کے بجائے “بال گورو دیوس” اور “سوشاسن دیوس” کے طور پر منانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

میمورنڈم میں اسکولوں میں کرسمس تقاریب پر پابندی لگانے اور “بھارتی اقدار” کی تعلیم دینے کی بات کہی گئی تھی۔ اس میں اٹل بہاری واجپئی کی شاعری اور افکار پر مبنی سرگرمیاں منعقد کرنے کی اپیل بھی شامل تھی۔

اس حکم کے بعد عیسائی تنظیموں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ آل انڈیا کرسچن کونسل کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر جان دیال نے کہا کہ کرسمس عیسائیوں کا سب سے مقدس دن ہے اور اس روز اسکول کھول کر سیاسی نوعیت کے پروگرام کرانا مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم عیسائی برادری کے ثقافتی اور مذہبی حقوق کو کمزور کرتا ہے اور اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتا ہے۔

عیسائی تنظیموں نے مرکزی وزیرِ داخلہ کو بھیجے گئے میمورنڈم میں عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ یونائیٹڈ کرسچن فورم کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں 834 اور سال 2025 میں نومبر تک 706 واقعات درج کیے گئے ہیں۔

میمورنڈم میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جبری مذہب تبدیلی کے الزامات کے نام پر حملے ہو رہے ہیں، اور اتر پردیش و چھتیس گڑھ سب سے زیادہ متاثرہ ریاستیں ہیں۔ اس میں تدفین سے روکنے، قبروں کی کھدائی اور پولیس کی مبینہ بے عملی جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مرادآباد کے ایک سرکاری استاد ڈاکٹر نہال ناظم نے مکتوب میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اسکولوں کی ذمہ داری بچوں کو برابری اور باہمی ہم آہنگی کا درس دینا ہے۔ ان کے مطابق کسی مذہبی تہوار کو ختم کر کے سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد تعلیم کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔

علی گڑھ کے ایک عیسائی اسکول کے سابق طالب علم انسَب نے کہا کہ کرسمس تمام برادریوں کے لیے ایک مشترکہ ثقافتی موقع رہا ہے، اور اسے ختم کرنا اقلیتوں کے تئیں عدم حساسیت کی عکاسی کرتا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ 2014 میں مرکزی حکومت نے 25 دسمبر کو “سوشاسن دیوس” قرار دیتے ہوئے اسے سرکاری یومِ کار بنایا تھا، جس پر اس وقت بھی تنازع پیدا ہوا تھا۔ تاہم دہلی، پنجاب اور کیرالہ جیسے ریاستوں میں کرسمس کو اب بھی اسکول تعطیل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیرالہ کے وزیرِ تعلیم نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسکولوں کو “فرقہ وارانہ تجربہ گاہ” نہیں بننے دیا جائے گا۔

سیاسی اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی رہنماؤں کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کسی مذہبی برادری کے عقائد کی قیمت پر کیا گیا فیصلہ جمہوری اور سیکولر اقدار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو