اتر پردیش کے ضلع مین پوری سے ذات پات پر مبنی ظلم و ستم کا ایک نہایت سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نجی اسکول میں زیرِ تعلیم 14 سالہ دلت طالب علم کو مبینہ طور پر ذاتیسوچک گالیاں دی گئیں، بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔ واقعے کے بعد سے متاثرہ طالب علم کے چلنے پھرنے سے معذور ہونے کی اطلاع ہے۔
یہ معاملہ کوروَوالی تھانہ حلقہ کے تحت واقع للّو سنگھ انٹر کالج کا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق 29 جنوری کو جماعت ہشتم کا طالب علم اسکول میں پانی پی رہا تھا، اسی دوران پانی کی ایک پائپ ٹوٹ گئی۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ پائپ کسی دوسرے طالب علم سے ٹوٹی تھی، مگر سارا الزام دلت طالب علم پر ڈال دیا گیا۔
شکایت کے مطابق الزام لگتے ہی طالب علم کی ذات کی بنیاد پر توہین کی گئی۔ سوویر سنگھ (وجے سنگھ کا بیٹا) اور راجیو ورما عرف راجو لودھی (مہاویر سنگھ کا بیٹا) نے طالب علم کو ذاتیسوچک الفاظ کہے، جسمانی طور پر مارا پیٹا اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ الزام ہے کہ جاتے جاتے اس سے کہا گیا: “اگر دوبارہ اسکول آیا تو جان سے مار دیں گے۔”
متاثرہ طالب علم کے بڑے بھائی، جو کوروَوالی کے گھنراج پور کے رہنے والے ہیں، نے 30 جنوری کو تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی۔ اسی روز شام 6:53 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس نے یہ مقدمہ درج فہرست ذات و فہرست قبائل (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے ساتھ ساتھ بھارتی نیائے سنہیتا (BNS)، 2023 کی دفعات 115(2) (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا)، 352 (امن میں خلل ڈالنے کی نیت سے توہین) اور 351(3) (مجرمانہ دھمکی) کے تحت درج کیا ہے۔
کوروَوالی تھانہ انچارج للت بھاٹی نے ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تفتیش کی ذمہ داری سب انسپکٹر سچدانند سنگھ کو سونپی گئی ہے۔
واقعے کے بعد مقامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سماجی کارکنوں اور دلت تنظیموں نے سوال اٹھایا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت اور مساوات کو یقینی بنانے میں انتظامیہ اور اسکول مینجمنٹ کا کیا کردار ہے۔ انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور اسکول انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے اور تفتیش کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔