انصاف ٹائمس ڈیسک
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہر 20 میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050 تک ہر سال تقریباً 32 لاکھ خواتین کو نیا بریسٹ کینسر ہوگا اور 11 لاکھ خواتین اس بیماری سے جان گنوا بیٹھیں گی۔
بھارت کی صورتحال کی بات کی جائے تو بریسٹ کینسر کے کیسز کے معاملے میں بھارت امریکہ اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔
میكس سپر اسپیشیالٹی اسپتال کی سینیئر بریسٹ کینسر آنکولوجسٹ ڈاکٹر چترویدی کے مطابق بھارت میں بریسٹ کینسر میں تیزی کی ایک بڑی وجہ کثیر آبادی ہے، کیونکہ یہاں نوجوان خواتین کی تعداد دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق طرزِ زندگی (لائف اسٹائل) سے بھی ہے۔
تو آئیے جانتے ہیں کہ چھاتی کا سرطان کیا ہے اور اس کی ابتدائی پہچان کیسے ممکن ہے۔
چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) کیا ہے؟
یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں چھاتی کی خلیات (cells) غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور رسولی (tumor) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ کینسر دیگر اعضا میں بھی پھیل سکتا ہے۔ یہ خواتین میں سب سے عام سرطان ہے۔
چھاتی کے سرطان کی وجوہات
اس کے کئی اسباب ہیں، اہم یہ ہیں:
1.عمر بڑھنا – 40 سے 50 سال کے بعد خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
2.خاندانی تاریخ – خاندان میں کسی کو یہ مرض ہو چکا ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
3.ہارمونی تبدیلیاں – حیض کا جلد شروع ہونا یا مینوپاز میں تاخیر۔
4.طرزِ زندگی – موٹاپا، شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور جسمانی سرگرمی کی کمی۔
5.وراثتی عوامل – کچھ جینیاتی تبدیلیاں (mutations)۔
6.ریڈی ایشن – جسم کا ریڈی ایشن سے سامنا۔
علامات
ابتدائی طور پر نمایاں علامات نہیں ہوتیں لیکن بڑھنے پر یہ ہو سکتی ہیں:
چھاتی میں گلٹی یا سختی محسوس ہونا۔
بغل یا چھاتی میں سوجن یا درد۔
جلد پر لالی، کھردرا پن یا گڑھے پڑنا۔
چھاتی کے سائز یا رنگ میں تبدیلی۔
نپل کا اندر کی طرف مڑ جانا۔
نپل سے خون یا دیگر رطوبت آنا۔
بغل میں گلٹیاں بننا۔
چھاتی کے سرطان کی جانچ کیسے کی جاتی ہے؟
1.خود معائنہ (Self-examination) – ہر ماہ اپنی چھاتی کی جانچ۔
2.ڈاکٹر کا معائنہ – چھاتی اور بغل کی ہاتھوں سے جانچ۔
3.میموگرافی (Mammography) – ایکس رے کے ذریعے اندرونی تصویر۔
4.الٹراساؤنڈ – گلٹی کی نوعیت جانچنے کے لیے۔
5.بایوپسی (Biopsy) – گلٹی سے نمونہ لے کر مائیکروسکوپ سے معائنہ۔
بچاؤ کے طریقے
متوازن غذا اور پھل و سبزیاں کھانا۔
روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش۔
وزن قابو میں رکھنا۔
شراب اور سگریٹ سے پرہیز۔
بچوں کو دودھ پلانا (breastfeeding)۔
باقاعدہ خود معائنہ اور میڈیکل چیک اپ۔
علاج کے طریقے
سرجری – رسولی یا چھاتی کو نکال دینا۔
کیموتھراپی – دواؤں سے سرطان کے خلیات ختم کرنا۔
ریڈی ایشن تھراپی – شعاعوں کے ذریعے خلیات کو تباہ کرنا۔
ہارمونی تھراپی – ہارمون پر انحصار کرنے والے کینسر کے لیے مخصوص علاج۔
ٹارگٹڈ تھراپی – مخصوص دواؤں سے کینسر کے خلیات کو نشانہ بنانا۔
آگاہی کیوں ضروری ہے؟
اب بھی کئی خواتین جھجک، خوف یا سماجی دباؤ کی وجہ سے جانچ نہیں کراتیں۔ جبکہ بروقت پہچان اور علاج سے یہ مرض قابو میں آ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنی صحت پر توجہ دیں اور کسی بھی غیر معمولی علامت پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔