
پٹنہ (سیف الرحمن/انصاف ٹائمز) کرونا کے واقعات کے تیز ہونے کے معاملات کے بیچ ملک میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے آثار نظر آنے لگے ہیں مہاراشٹر،بہار سمیت کئی ریاستوں نے نائٹ کرفیو نافذ کردیا ہے تو وہیں تعلیمی ادارے اکثر مقامات پر بند کر دیے گئے ہیں لیکن اس بار عوام ذہنی طورپر لاک ڈاؤن کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں دکھ رہی ہے اور انکا ماننا ہیکہ جن ریاستوں میں الیکشن ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں وہاں پر لاکھوں لاکھوں کا مجمع لگ رہا اور خود وزیر اعظم،و زیر خارجہ،و زیر صحت و دیگر مرکزی وزراء اس مجمع کو جاکر خطاب کر رہے ہیں تو ایسے میں کرونا و لاک ڈاؤن ایک سرکاری سازش نظر آ رہی ہے جس کی ایک مثال بہار کے ساسارام میں دیکھنے کو ملا جہاں کوچنگ سنٹر بند کرانے گئے انتظامیہ کے افسران کو اساتزہ و طلباء کی طرف سے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا خاص طورپر مسلم عوام عین رمضان سے پہلے لاک ڈاؤن کا ماحول بننے کو اپنے خلاف اقدام سمجھ رہے ہیں یہی وجہ ہیکہ جہاں ایک طرف کرفیو کو مانتے ہوئے مدارس و مساجد نے گائڈ لائن پر عمل شروع کیا ہے تو وہیں سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ ذمہ داروں سے مانگ کر رہے ہیں کہ ان احکام کے خلاف احتجاج درج کرائے اسی بیچ ایک خبر مالیگاؤں سے سامنے آئی ہیکہ وہاں کے ذمہ داران شہر و اکابرین نے متحدہ بیان جاری کرکے کہا ہیکہ ہم مساجد میں پہلے کی طرح ہی نمازیں ادا کرینگے، تراویح ادا کرینگے اور نماز عید بھی ادا کرینگے اس خبر کے عام ہوتے ہی نوجوانوں نے اس کی ستائش شروع کردی اور تمام اداروں و ملی تنظیموں سے اسی طرح کے جرات مندانہ اقدام کی مانگ کرنے لگے ہیں