بہار کے ضلع نالندہ سے انسانیت اور رشتوں کو تار تار کر دینے والا ایک لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ شہر کے نگر تھانہ علاقے میں رہنے والی آٹھویں جماعت کی ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ چار نوجوانوں کی جانب سے اجتماعی جنسی زیادتی (گینگریپ) کا سنسنی خیز معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ واقعے کا مرکزی ملزم متاثرہ کا پڑوسی بتایا جا رہا ہے، جس نے اعتماد کا فائدہ اٹھا کر اس گھناؤنے جرم کی سازش رچی
موصولہ اطلاعات کے مطابق، متاثرہ لڑکی گزشتہ 22 جنوری کو کھلونے فروخت کرنے کی غرض سے ‘گیا جی’ گئی تھی۔ اسی دوران اس کے محلے کا رہنے والا گولو اپنے تین ساتھیوں چھوٹو، پپو اور ایک نامعلوم نوجوان کے ساتھ وہاں پہنچا۔ واقفیت کی بنا پر طالبہ نے ان پر بھروسہ کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چاروں ملزمان نے اسے جھانسہ دیا اور زبردستی اغوا کر کے بہار شریف لے آئے۔
متاثرہ نے مہیلا (خواتین) تھانے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا کہ بہار شریف لا کر چاروں ملزمان نے ایک سنسان مقام پر اس کے ساتھ باری باری درندگی کی۔ جب طالبہ نے مزاحمت کی کوشش کی تو ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ اس بہیمانہ فعل کو انجام دینے کے بعد ملزمان اسے بے ہوشی کی حالت میں اس کے گھر کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ مقامی لوگوں اور اہل خانہ کی مدد سے متاثرہ کو سنبھالا گیا، جس کے بعد ہوش آنے پر اس نے اپنی آپ بیتی سنائی۔
ہفتہ کے روز متاثرہ کے بیان کی بنیاد پر مہیلا تھانے میں تین نامزد اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
خواتین تھانہ انچارج کماری اوشا سنہا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ واقعہ بہار شریف کے دائرہ اختیار میں پیش آیا ہے۔ متاثرہ کا طبی معائنہ (میڈیکل ٹیسٹ) کرایا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔”
نابالغ بچی کے ساتھ پیش آنے والی یہ درندگی معاشرے کے حفاظتی نظام پر بڑے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ جب پڑوسی ہی درندہ بن جائے تو بیٹیاں کہاں محفوظ ہیں؟