2026 اسمبلی انتخاب سے پہلے بنگال کی اپوزیشن سیاست میں نئی ہلچل: سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیج پر کمیونسٹ پارٹی کی موجودگی سے اتحاد پر بحث تیز

مغربی بنگال میں ۲۰۲۶ کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اپوزیشن سیاست ایک بار پھر نئے سوالات اور امکانات کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
۲۰۲۱ کے اسمبلی انتخابات اور ۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں صفر نشستوں تک محدود رہ جانے والی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اب سماجی اور سیاسی پلیٹ فارموں پر اپنی سرگرمیاں تیز کرتی نظر آ رہی ہے۔ حال ہی میں مرشدآباد میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی ایک عوامی ریلی میں کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئے سیاسی امکانات اور ممکنہ صف بندیوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔

جمعرات کو مرشدآباد کے ڈومکل بس اسٹینڈ کے قریب سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی اپیل پر ایک امتیاز مخالف عوامی جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس جلسے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ضلعی سطح کے قائدین، کارکنان اور حامی بھی اسٹیج پر موجود رہے۔ جلسے میں مہاجر مزدوروں پر مظالم، اقلیتی حقوق کی پامالی، سماجی تفریق اور بدعنوانی جیسے مسائل پر ریاست کی ترنمول کانگریس حکومت اور مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ دیگر ریاستوں میں بنگالی بولنے والے مزدوروں پر حملوں کے واقعات کے باوجود عوامی نمائندے پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مؤثر مداخلت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی پلیٹ فارم سے آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا پیغام بھی دیا گیا۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی صدر حقیق الاسلام نے واضح کیا کہ ان کی جماعت امتیاز اور سماجی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کو اپنی اولین ترجیح مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی مخالف تمام جمہوری جماعتوں کو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم کو بھی اس سلسلے میں خط لکھا گیا تھا، جس کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے ریاستی اور ضلعی سطح کے قائدین جلسے میں شریک ہوئے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال کسی باضابطہ انتخابی اتحاد کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور اسٹیج کا اشتراک محض مسائل کو لیکر یکجہتی کا حصہ ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے ضلعی سکریٹری ضمیر مولا نے پارٹی کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کے خلاف جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع تر اتحاد ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی قوتیں اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہتی ہیں، کمیونسٹ پارٹی ان کے ساتھ مل کر آگے بڑھے گی۔ پارٹی کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ سماجی تحریکوں اور مشترکہ عوامی مسائل کے ذریعے عوام کے درمیان اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط بنانا موجودہ وقت کی اہم ترجیح ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ۲۰۲۱ کے اسمبلی انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی، کانگریس اور انڈین سیکولر فرنٹ نے مشترکہ محاذ کے تحت انتخابات لڑے تھے۔ اس انتخاب میں انڈین سیکولر فرنٹ نے بھانگر اسمبلی نشست سے کامیابی حاصل کی تھی، جو اس محاذ کی واحد نمایاں کامیابی رہی۔
اگرچہ انتخابات کے بعد یہ اتحاد سرگرم طور پر آگے نہیں بڑھ سکا، تاہم یہ مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوا۔ گزشتہ برسوں میں شہری حقوق اور سماجی مسائل پر ان جماعتوں کے نمائندے متعدد مرتبہ ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آئے ہیں۔

مغربی بنگال میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے متعدد پروگراموں میں انڈین سیکولر فرنٹ اور کانگریس کے مقامی، ضلعی اور ریاستی سطح کے قائدین بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔ تاہم سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا کانگریس یا انڈین سیکولر فرنٹ کے ساتھ کوئی باضابطہ سیاسی اتحاد نہیں ہے۔ تینوں جماعتوں کی شرکت کو اب تک مسئلہ کے بنیاد پر سیاست اور سماجی تحریکوں سے جڑا ہوا بتایا جاتا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ مشترکہ پلیٹ فارم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ کسی طے شدہ انتخابی سمجھوتے کا واضح اشارہ۔

اس پوری سیاسی پیش رفت پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بہرام پور سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی سبرت مائترا نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کے اسٹیج شیئر کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی اپنے کمزور انتخابی نتائج سے نکلنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے کمیونسٹ پارٹی کی نظریاتی سیاست پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

فی الحال کمیونسٹ پارٹی، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، انڈین سیکولر فرنٹ اور کانگریسیا کسی بھی جماعت کی جانب سے ۲۰۲۶ کے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کسی باضابطہ اتحاد کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم مسلسل مشترکہ پلیٹ فارم، یکساں عوامی مسائل پر یکجہتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی و ترنمول کانگریس مخالف لہجہ اس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے کہ بنگال کی اپوزیشن سیاست آنے والے مہینوں میں نئے تجربات اور ممکنہ سیاسی صف بندیوں کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ قربتیں صرف سماجی تحریکوں تک محدود رہتی ہیں یا پھر ۲۰۲۶ کے اسمبلی انتخابات سے پہلے کسی مضبوط اور واضح سیاسی مفاہمت کی شکل اختیار کرتی ہیں۔

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔