انصاف ٹائمس ڈیسک
بریلی، اتر پردیش میں ‘آئی لو محمد’ مہم کو لے کر جاری تنازعہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ پولیس نے اب تک مجموعی طور پر 73 مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں مولانا توقیر رضا کے قریبی ساتھی نسیم خان بھی شامل ہیں۔ نسیم خان کو تشدد بھڑکانے اور متنازع پوسٹس وائرل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے اس معاملے میں اب تک 10 ایف آئی آر درج کی ہیں، جن میں تقریباً 180 نامزد اور 2,500 نامعلوم مسلمانوں کے نام شامل ہیں۔ بریلی کے ایس ایس پی انوراگ آریہ نے بتایا کہ نسیم خان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھڑکاؤ پھیلانے والی پوسٹس اور ویڈیوز کے ڈیجیٹل شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ نسیم خان کو پولیس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ تنازعہ 26 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب بریلی میں ‘آئی لو محمد’ پوسٹر کے خلاف احتجاج ہوا اور تشدد بھڑک گیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور جوابی تشدد میں کئی اہلکار زخمی ہوئے اور مولانا توقیر رضا کو مرکزی ملزم مانتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دی۔
پولیس انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں آٹھ غیر قانونی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو مولانا توقیر رضا کے ساتھیوں سے منسلک ہیں۔ ان جائیدادوں کو مسمار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر نگرانی بڑھا دی ہے اور امن قائم رکھنے کے لیے فلیگ مارچ بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔
عہدیداروں نے انتباہ دیا ہے کہ گرفتاریاں جاری رہیں گی اور تحقیقات میں شامل دیگر ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ بریلی میں مذہبی کشیدگی بڑھانے والا تصور کیا جا رہا ہے اور انتظامیہ صورتحال پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔