کرناٹک کی دارالحکومت بنگلور میں پولیس حراست اور ریہیب سینٹر کی مبینہ لاپرواہی کے باعث 24 سالہ دلت نوجوان درشن کی مشکوک حالات میں موت ہوگئی۔ واقعہ 26 نومبر کو پیش آیا۔
مرحوم کے والدین، خاص طور پر والدہ ادلکشمی نے ویوک نگر پولیس اسٹیشن اور مدانایکناہلی میں واقع ‘یونٹی فاؤنڈیشن ریہیب سینٹر’ کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے کو تھانے میں ASI پاون اور دو دیگر پولیس اہلکاروں نے بے رحمی سے مارا پیٹا، جس کے بعد وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے۔
ادلکشمی کا کہنا ہے کہ پولیس نے دباؤ ڈال کر ان کے بیٹے کو ریہیب سینٹر بھیجا اور 2,500 روپے وصول کیے۔ بعد میں، سینٹر نے خاندان کو مسلسل بتایا کہ درشن کی حالت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔
26 نومبر کو سینٹر سے فون پر بتایا گیا کہ درشن کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔ جب خاندان وہاں پہنچا تو انہیں بتایا گیا کہ دشن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ نیلمنگلا سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دشن کو مردہ حالت میں پہنچے ہوئے پایا۔
خاندان نے جب لاش دیکھی تو اس کے سینے، پیٹھ، ہاتھوں اور پیروں پر شدید زخموں کے نشانات دیکھے، جو جسمانی تشدد کی تصدیق کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم میں بھی پرانے زخموں کی تصدیق ہوئی۔
مدانایکناہلی پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ASI پاون، دو نامعلوم پولیس اہلکاروں اور ریہیب سینٹر کے انتظامیہ کے خلاف SC/ST (انتہا پسندی کے خاتمے) ایکٹ اور بھارتی فوجداری ضابطہ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔
متاثرہ والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی جان اونچی ذات کے پولیس اہلکاروں کی بے رحمی اور ریہیب سینٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے گئی۔ پولیس اس کیس کی گہری تفتیش کر رہی ہے۔