بہار کے ضلع مونگیر کے نیا رام نگر تھانہ علاقے کے کنہایاکچک پٹم رگھناتھ ٹولا میں ہفتے کی رات غیر قانونی شراب کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کے دوران پولیس ٹیم پر حملے کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ غیر قانونی شراب کی شکایت پر ٹیم پٹم مغربی پنچایت پہنچی تھی، تبھی وہاں موجود شراب فروش کے حامیوں اور کچھ مقامی لوگوں نے پولیس پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس نے علاقے میں کڑی چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مونگیر ایس پی سید عمران مسعود نے بتایا کہ مفصل تھانہ کی کیو.آر.ٹی ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ پٹم کی طرف سے اسمگلرز غیر قانونی شراب لے کر آ رہے ہیں۔ اس کے بعد بغیر سینئر افسران کو اطلاع دیے سپاہیوں نے کارروائی کے لیے روانہ ہو گئے۔ سینئر افسران اور مقامی تھانے کو اس چھاپہ مار کارروائی کی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے معاملہ مشکوک نظر آ رہا ہے۔
واقعے کے دوران پولیس ٹیم اور مقامی لوگوں کے درمیان جھڑپ میں کم از کم تین جوان زخمی ہوئے اور کچھ حملہ آوروں نے ایک سرکاری رائفل اور ایک سپاہی کا پستول چھین لیا، جس کی تلاش جاری ہے۔ زخمی جوانوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایس پی مسعود کے مطابق، زخمی سپاہی سونو کمار کا کردار بھی مشکوک سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بغیر حکم کے موبائل فون لے کر موقع کا ویڈیو بنایا تھا۔ اس موبائل فون کی جانچ میں مشکوک ثبوت بھی ملے ہیں۔ اس معاملے میں کچھ سپاہیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جو واقعے کے وقت کارروائی میں شامل تھے۔
ایس پی نے مزید بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر ٹیم روانہ کر کے علاقے کی گھیرابندی کی۔ اب تک کئی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جو سپاہیوں کے ساتھ مارپیٹ میں شامل تھے۔ پولیس پورے علاقے میں مزید کارروائی اور گرفتاریوں کے لیے چھاپہ مار رہی ہے۔
شراب کی سمگلنگ اور مافیا کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان اس قسم کی تشدد کی خبریں بہار کے دیگر علاقوں میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جس سے قانون و نظم و نسق پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پچھلے سال بھی ضلع میں کئی بار پولیس پر حملے اور غیر قانونی شراب کی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے دوران تناؤ کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔