انصاف ٹائمس ڈیسک
راجستھان حکومت نے راجستھان پروہیبیشن آف ان لا فل ریلجیس کنورژن بل، 2025 منظور کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون “زبردستی مذہب تبدیلی” کو روکنے کے لیے ضروری ہے، لیکن حزب اختلاف، شہری تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اسے غیر آئینی اور فرقہ وارانہ قرار دیا ہے۔
اس بل کے مطابق کسی بھی مذہب کی تبدیلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو 90 دن پہلے اطلاع دینا لازمی ہوگی۔ مجرم قرار دیے جانے پر 7 سے 14 سال تک قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر متاثرہ خاتون، نابالغ، شیڈولڈ کاسٹ/شیڈولڈ ٹرائب یا معذور ہو، تو سزا 10 سے 20 سال تک اور جرمانہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ بڑی تعداد میں یا مبینہ “فریب/غلط فہمی” کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کے کیس میں آجِیْوَن قید اور 1 کروڑ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مذہب کی تبدیلی میں شامل اداروں کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین فاروقی نے بل کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 14، 19، 21 اور 25 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل ذاتی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے لایا گیا ہے اور اقلیتی کمیونٹیز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتیں، جیسے کانگریس، اور شہری تنظیمیں بھی بل پر تنقید کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف اقلیتوں کو ڈرانے اور ان کے مذہبی حقوق کو محدود کرنے کا آلہ ہے۔ کانگریس کے رہنما تِکرام جولی نے اسے “فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی سازش” قرار دیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بل کی مبہم شقیں—جیسے “فریب” یا “اثر”—ذاتی مذہبی سرگرمیوں کو بھی جرم کی زمرے میں لا سکتی ہیں۔ ایسے اقدامات سے عدالتی مداخلت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہ مذہبی آزادی اور نجی زندگی پر سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔
راجستھان کا یہ مذہب تبدیلی مخالف قانون منظور ہوتے ہی تنازعات اور تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ شہری سماج اور حزب اختلاف اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت اس بل کی قانونی حیثیت پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا یہ آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔