کَرناٹک کے امیرِ شریعت اور دارالعلوم سبیلُ الرشاد، بنگلور کے مہتمم و شیخُ الحدیث مولانا صغیر احمد رشادی رحمۃ اللہ علیہ کا پیر، 12 جنوری 2026 کو انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے علیل تھے اور تقریباً 80 برس کی عمر میں انہوں نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کے انتقال کی خبر سے ملک بھر کے علمی، دینی اور ملی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مولانا صغیر احمد رشادی کا انتقال 22 رجب المرجب 1447 ہجری، بروز پیر ہوا۔ وہ سادگی، تقویٰ، علم اور خاموشی کے ساتھ ملت کی خدمت کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کے چاہنے والوں، شاگردوں اور رفقا کے مطابق وہ کم گو مگر گہرے اثرات چھوڑنے والے بزرگ تھے۔
مولانا رشادی، مولانا مفتی محمد اشرف علی باقوی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد امیرِ شریعت کرناٹک منتخب ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دارالعلوم سبیلُ الرشاد، بنگلور کے مہتمم اور شیخُ الحدیث کے منصب پر بھی فائز رہے۔ اپنے دورِ انتظام میں انہوں نے اس علمی ادارے کو تعلیمی اور تعمیری ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ علما کا کہنا ہے کہ مولانا نے اس ادارے کو “خونِ جگر” سے سینچا اور اسے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
پٹنہ سے جاری امارتِ شرعیہ (بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ) کی پریس ریلیز میں ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ امیرِ شریعت بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا صغیر احمد رشادی کے انتقال سے علم و عمل کا ایک روشن آفتاب غروب ہوگیا ہے، جس نے طویل عرصے تک دنیائے علم و معرفت کو منور رکھا۔
ناظم امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی نے کہا کہ مولانا رشادی کی شخصیت میں بڑی جامعیت تھی اور ان کی سادگی، دینی غیرت اور امارتِ شرعیہ سے گہرا تعلق ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وفات سے پوری ملت سوگوار ہے۔
قاضیِ شریعت قاضی محمد انذار عالم قاسمی نے کہا کہ مولانا چاند کے مسئلے سمیت متعدد دینی و اجتماعی امور میں امارتِ شرعیہ سے مشورہ کرتے تھے اور ہر دعوت پر پوری ٹیم کے ساتھ شرکت فرماتے تھے۔ نائب ناظمین اور دیگر علما نے انہیں ایک بے نفس، خاموشی سے کام کرنے والے اور طلبۂ علم سے محبت کرنے والے بزرگ کے طور پر یاد کیا۔
مولانا رشادی کے انتقال پر 12 جنوری 2026 کو امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ میں ایک تعزیتی مجلس منعقد ہوئی، جس میں علما، قضاۃ، مفتیان اور کارکنان نے شرکت کی اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی۔
مولانا صغیر احمد رشادی کا انتقال نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا علمی اور ملی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی زندگی سادگی، خدمت اور خاموش محنت کی روشن مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔