آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک نمائندہ وفد نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کیرن رجیجو سے ملاقات کی اور اُمید پورٹل پر وقف جائیدادوں کی اپ لوڈنگ سے متعلق درپیش مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔ وفد نے اس سلسلے میں ایک میمورنڈم بھی پیش کی، جس میں اپ لوڈنگ کی مقررہ مدت میں کم از کم ایک سال کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وفد نے وزیر کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں رجسٹرڈ وقف املاک کو پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کے دوران شدید تکنیکی مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا گیا کہ لاکھوں جائیدادیں تاحال اپ لوڈ نہیں ہو سکیں، کیونکہ پورٹل بار بار تکنیکی رکاوٹوں کا شکار رہا۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ پہلے سے اندراج شدہ وقف املاک کی اپ لوڈنگ کا ذمہ وقف بورڈوں کو دیا جانا چاہیے تھا اور اس کے لیے زیادہ وقت درکار تھا۔
بورڈ نے واضح کیا کہ اُمید قانون کی دفعہ 3B کے تحت چھ ماہ کی مقررہ مدت عملی اعتبار سے بہت کم تھی۔ وفد نے بتایا کہ کئی ریاستی وقف بورڈ—جیسے پنجاب، مدھیہ پردیش، گجرات اور راجستھان—کو بھی مدت میں توسیع کے لیے ٹریبونل سے رجوع کرنا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تکنیکی رکاوٹوں کے درمیان مقررہ وقت میں یہ کام تقریباً ناممکن تھا۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پورٹل اگرچہ 6 جون 2025 کو لانچ ہوا، لیکن اُمید قواعد 3 جولائی 2025 کو نوٹیفائی کیے گئے، اور اپ لوڈنگ سے متعلق ضروری ہدایات و فارمز بھی اسی دن جاری کیے گئے۔ ایسے میں چھ ماہ کی مدت کا شمار پورٹل کی لانچ تاریخ سے کرنا مناسب نہیں۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ قانون میں دی گئی ابتدائی مدت میں کم از کم ایک سال کی توسیع کی جائے۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ اگر یہ توسیع مل جاتی ہے تو مستقبل میں بہت کم معاملات کو ٹریبونل میں لے جانے کی نوبت آئے گی۔
ملاقات کے دوران وزیر کرن رجیجو نے وفد کے نکات کو بغور سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کا حل جلد تلاش کیا جائے گا۔
وفد میں شامل حضرات میں سیدہ سعادات اللہ حسینی (نائب صدر)، مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری)، رکن پارلیمنٹ بیریسٹر اسد الدین اویسی، سابق رکن پارلیمنٹ محمد عابد، مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند)، مفتی عبد الرزاق (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند دہلی)، ایڈوکیٹ فُضیل احمد ایوبی، حکیم محمد طاہر اور ایڈوکیٹ نبیلہ جمیل شامل تھے۔