آل انڈیا مجلسِ اتحادالمسلمین کی نومنتخب ممبرا کی کارپوریٹر سحر شیخ کی کامیابی کے بعد ایک تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ان کی جیت کے بعد دیے گئے فتحی خطاب کے ایک حصے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراض کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ٹرولنگ شروع ہو گئی اور پولیس میں شکایات درج کرائی گئیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ نو نیت رانا نے سحر شیخ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ “سب کچھ ہرا کرنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔” یہ بیان سحر شیخ کے اس خطاب کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آنے والے انتخابات میں مجلس کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور “ممبرا کو مکمل طور پر ہرا رنگ دیا جائے گا۔”
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کیرت سومیا اور نرنجن داوکھرے نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ سحر شیخ کا بیان فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے والا ہے اور سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تنازع اور الزامات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سحر شیخ نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “ہرا رنگ” سے ان کی مراد پارٹی کے جھنڈے کا رنگ تھا اور اس کا کوئی مذہبی مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے۔
سحر شیخ نے کہا کہ اگر ان کی جماعت کے جھنڈے کا رنگ کوئی اور ہوتا تو وہ اسی رنگ کا ذکر کرتیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ سیکولر اقدار پر یقین رکھتی ہیں اور فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر سیاسی جماعتوں جیسے جنتا دل یونائیٹڈ، راشٹریہ جنتا دل اور جن نائک جنتا پارٹی کے جھنڈے بھی ہرے رنگ کے ہیں، لیکن جب ان جماعتوں کے رہنما اپنے علاقوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس پر کوئی تنازع کھڑا نہیں ہوتا۔
سحر شیخ نے تھانے میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر تیس سے مجلس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دونوں دھڑوں کی حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست دی۔ کلوا–ممبرا علاقہ چار مرتبہ کے رکنِ اسمبلی جتیندر آوہاڈ کا اثر و رسوخ والا حلقہ مانا جاتا ہے اور یہاں مسلم آبادی بڑی تعداد میں ہے۔
تنازع کے بعد سحر شیخ کے حق اور مخالفت میں ردِعمل کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اس معاملے پر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔